فلسطین اسرائیل تنازع

بوسینیا: غزہ میں جنگ بندی کے لیے یہودیوں اور مسلمانوں کی مشترکہ تقریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بوسنیا میں یہودی اور مسلمان شخصیات نے ایک مشترکہ 'انیشیٹو ' شروع کر دیا ہے۔ یہ 'انیشیٹو' ان کی امن کوششوں کے حوالے سے ہفتے کے روز بوسینیا کے شہر سریبرینیکا میں اس وقت سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے مل کر یہودیوں کے ہولوکاسٹ کی یاد منائی اور غزہ میں امن کا مطلبہ کیا ہے۔

اس مشترکہ ' انیشیٹو ' کو یہودی مسلم امن 'انیشیٹو ' کا نام دیا گیا ہے۔ نسل کشی کا شکار ہونے والے یہودیوں اور مسلمانوں کی یاد میں سریبرینیکا کے نسل کشی کے یادگاری مرکز میں ممکن بنایا گیا۔ ورلڈ فیڈریشن آف بیلسن ایسوسی ایشن اور امیریکن لائرز کے صدر میناچیم روزن سیفت اور مسلمانوں کے مذہبی رہنما حسین کاوا زویک نے بطور خاص شرکت کی۔

اس نسل کشی کی یاد میں قائم مرکز کی ایک غیر معمولی علامتی حیثیت ہے۔ جیسا کہ بوسینیا کے قصبے میں سربیا کی فوج نے 8000 مسلمانوں اور بطور خاص 1995 میں مسلم نوجوانوں کو نسل کشی کا نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اس واقعے کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

غزہ میں اس وقت تک 26 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی فوج کی بمباری سے ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں بھی زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں جنوبی افریقہ کی درخواست پر بین الاقوامی عدالت انصاف کا اسرائیل خے خلاف ایک فیصلہ بھی سامنے آگیا ہے۔

ورلڈ جیوش کانگریس کے روزن سیفٹ نے اس غیر معمولی ےقریب میں کہا ' ہم یہاں اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ ہمارے غم اور آنسو دعائیں بن جائیں، یہ یاد آنے والے والوں کے لیے دعائیں ہیں ، لیکن ہماری یہ دعائیں امید کے لیے ہیں۔ '

انہوں نے مزید کہا ' ہولوکاسٹ اور سریبرینیکا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے متاثرین کی یہ 'یاد میں تقریب ' ہمارے مشترکہ عزم کرنے کا وقت اور مقام ہے ۔ ہم مزید ہولناکیوں کو دہرانے سے روکنے کے لیے جو آج ہم یہاں پرانی ہولناکیوں کو یاد کر رہے ہیں۔'

مسلمانوں کے بوسینیا میں مفتی اعظم نے کہا ' ہم چھ ملین معصوم یہودیوں کو یاد کرتے ہیں جنہیں اس وقت کے فاشسٹ نازیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ مگر آج پھر ہم اسی جگہ پر جمع ہیں جہاں انسانیت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں دوبارہ ناکام ہو گئی تھی اور آٹھ ہزار مسلمانوں کو سرب فوج نے شہید کیا تھا۔ '

حسین کاوازوچ نے کہا ' ہم دو قومیں بھگت رہی ہیں۔ نازیوں نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو ہلاک کیا تھا اور بوسینیا میں 12 ہزار مسلمناوں کو تقریباً پوری آبادی کو ختم کر دیا تھا۔'

مفتی اعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ' مسلمان اور یہودی ایک جسم ہیں۔ ہمارے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ یہ تعلقات مشکل وقت اور خوشحالی دونوں وقتوں میں مضبوط رہے ہیں۔ ہمارے دونوں قوموں کے لوگوں نے یہ مصائب برداشت کیے ہیں اور انہیں ختم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی رہی ہے۔ '

اس موقع پر سریبرینیکا کی ماوں کی ایسیو ایشن کی صدر منیرہ سباسک کی موجودگی میں دونوں رہنماؤں نے مفاہمتی راستے بنانے کی تحریر پر دستخط کیے اور اس کی بنیاد پر تعلقات کی عمارت کھڑی کرنے پر زور دیا۔

بوسنیا کے مفتی اعظم نے اس موقع پر کہا، قبضے کے خلاف مزاحمت مجرمانہ کارروائیوں کا جواز نہیں بن سکتی، جس طرح دہشت گردی سے لڑنے کی اپیل شہریوں کے قتل اور اجتماعی سزا کا جواز نہیں بن سکتی۔

بوسینیا میں مسلمانوں اور یہودیوں کے اس مشترکہ کوششو کی پذیارائی برسلز مین سامنے ائی ہے۔ کونسل آف یورپ کمشنر برائے انسانی حقوق ڈنجا میجاٹووک نے اسے ایسے وقت میں امید کی کرن قرار دیا جب تقسیم اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عام طور پر یہ ناقابل تسخیر نظر آتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں