فلسطین اسرائیل تنازع

تل ابیب: یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قطر پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جو اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور انتہا پسند حکومت کی غیر معمولی شہرت رکھنے کے علاوہ ہمیشہ دھمکی آمیز لہجے میں گفتگو کرتے ہیں نے اب یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام آنے والے ملک قطر پر بھی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہفتے کے روز اس سلسلے میں سامنے آنے والے ایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا' قطر کو حماس کا میزبان ملک ہونے کے ناطے ہمارے یرغمالیوں کی حماس سے رہائی کے لیے اپنی میزبانی کو بطور پر ' لیوریج' استعمال کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بات کئی روز پہلے ایک بند کمرے کے اجلاس میں قطر پر دباؤ بڑھا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی حکمت عملی کے تحت کہی تھی مگر ہفتے کے روز ایک ٹی وی رپورٹ کے ذریعے سامنے آئی ہے۔

وہ صحافیوں کے سامنے قطر کا شکریہ ادا کرنے کے بارے میں ایک سوال پر بول رہے تھے کہ قطریرغمالیوں کی رہائی کے لیے شروع سے کوشش میں ہے۔ نیتن یاہو نے قطر کا شکریہ ادا کرنے یا اسے کچھ سمجھانے سے بظاہر گریز کیا ۔ لیکن وہ اپنی نئی حکمت عملی کی اصل بات کہہ گئے کہ قطر کو اسرائیلی یرغمالیوں کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے کہ وہ حماس کے جنگجووں کا میزبان بھی تو ہے۔

واضح رہے اسرائیل نے سات اکتوبر سے امریکی حمایت سے جاری غزہ میں اپنی جنگ کے دوران اندھی بمباری کرکے ایک طرف اب تک 26 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے نسل کشی کا مرتکب قرار پایا ہے۔

وہیں اسے ابھی تک حماس کا خاتمہ کرنے اور اپنے یرغمالیوں کو حماس سے فوجی طاقت کے ذریعے چھڑانے میں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ اس وجہ سے نیتن یاہو کی حکومت کو اسرائیل کے اندر بھی سخت دباؤ اور خجالت کا سامنا ہے۔ اس لیے اب بوکھلاہٹ سامنے آنے لگی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں