مشرق وسطیٰ

جنگ کے بعد غزہ میں ’اونروا‘ کے کردار ختم کر دیں گے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل نے کہا ہےکہ وہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (اونروا) کو جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی میں کام کرنے سے روکنے کے لیے کام کرے گا۔

اسرائیل کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دوسری جانب تل ابیب نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ایک درجن ملازمین پر سات اکتوبر کے اسرائیل پر حماس کے حملے میں شمولیت کا الزام عاید کیا ہے۔

جمعہ کی شام اونروا نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے "کئی" ملازمین کو نکال دیا ہے جن پر اسرائیلی حکام حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

اس کے بعد امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، اٹلی، برطانیہ اور فن لینڈ نے ایجنسی کے لیے فنڈنگ فوری طور پر معطل کر دی ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر لکھا کہ وزارت خارجہ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اونروا جنگ کے بعد آنے والے مرحلے کا حصہ نہیں بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکا، کی حمایت کو متحرک کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ یورپی یونین اور دوسرے بڑے عطیہ دہندگان ریلیف ایجنسی کی امداد بند کر دیں۔

درایں اثناء حماس نے ہفتے کے روز اونروا اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے خلاف اسرائیلی "دھمکیوں" کی مذمت کی ہے۔ حماس نے "اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ میں نہ آئیں"۔

جمعہ کی شام اونروا نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی حکام کی طرف سےریلیف ایجنسی کے بعض ملازمین کے حملوں میں ملوث ہونےکے الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں۔

اونروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایک بیان میں کہا کہ "انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ایجنسی کی صلاحیت کے تحفظ کے لیے میں نے ان ملازمین کے کنٹریکٹس کو فوری طور پر ختم کرنے اور بغیر کسی تاخیر کے سچائی کے سامنے آنے تک تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہر ملازم کا احتساب ہونا چاہیے اور انہیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے‘‘۔

اسرائیل اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ بدھ کے روز غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس میں اقوام متحدہ کی ایک پناہ گاہ کو توپ خانے سے گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ نے اسرائیلی فوج کے اس حملے کی مذمت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں