دبئی میں پراپرٹی کے میدان کی ترقی کا عروج نئے سوالات کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

دبئی جب آسمان سے باتیں کرتی ہوئی اونچی اونچی کرینیں نظر آتی ہیں اور حد سے زیادہ پرتعیش اور پرآسائش گھر ریکارڈ قیمت پر فروخت ہوتے نظر آتے ہیں تو صاف لگتا ہے کہ دبئی میں پراپرٹی کا کاروبار عروج پر ہے۔ لیکن احتمال ہے کہ پراپرٹی کا یہ عروج کمزور پڑسکتا ہے۔

پراپرٹی اور تعمیرات سے متعلق ڈویلپرز، بروکرز اور سرمایہ کار نجی طور پر یہ پوچھتے نظر آرہے ہیں کہ پچھلے سال پراپرٹی کے جس بزنس کو خوب گرما گرم ترقی ملی تھی۔ کی اس میں اب کوئی فطری کمی یا تکلیف دہ کمزوری آسکتی ہے۔ جیسا کہ 2008 میں ایک مندی کا رجحان دیکھا جا چکا ہے۔ کی اس خطرے کو اب مکمل طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے۔

2008 کے بعد سے دبئی نے خود کو ایک معاشی ترقی کے راستے پر دوبارہ سے ڈال دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ ایک پائیدار بہتری کا ماحول رہے گا۔ اسی کے تحت پچھلے دس سال میں ڈی 33 نام سے ایک منصوبہ تیار کیا گیا۔ تاکہ دبئی کو دنیا کے چار بڑے مالیاتی مراکز میں سے ایک بنایا جاسکے۔

دبئی کی معیشت میں ریئل اسٹیٹ بزنس اس سبب آج بھی بلندی پر نظر آتا ہے کہ مجموعی معاشی ترقی میں اس کا حصہ 8 اعشاریہ 9 فیصد ہے۔ مگر دبئی کی اس معاشی صورتحال میں جس 'فطری اصلاح' کا احتمال نظر آتا ہے اس کی وجہ غیرملکی سرمایہ پر انحصار ہے۔ وہ غیرملکی سرمایہ بطور خاص وجہ ہے جس کا تعلق چین اور روس کے ساتھ ہے۔

2023 کی پہلی سہ ماہی کے دوران روسی شہری دبئی میں جائیدادوں کی خریداری کے حوالے سے غیر ہائشی خریداروں کے طور پر سب سے نمایاں تھے۔ لیکن سال کے اواخر میں روسی خریداروں کی پوزیشن تیسرے نمبر کی ہوگئی۔ ان کی جگہ بھارت اور برطانیہ سے آنے والے خریدار تعداد میں زیادہ ہوگئے۔ مصر سے آنے والے خریداروں کی تعداد میں بھی قابل ذکر اضافہ سامنے آیا ہے۔ اسی طرح لبنا، پاکستان اور ترکی سے بھی خریداروں کی تعاد میں اضافہ ہوگیا ہے۔

وسیع پیمانے پر پھیلنے والا 'انفراسٹرکچر' آمدنی پر ٹیکسوں کے فراخدلانہ ماحول کا عکاس ہے۔ اسی کی وجہ سے دبئی نے ویزوں کے لیے دروازے کھول دینے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور کورونا کی وبا کے بعد غیرملکیوں کے لیے دبئی کی کشش اور بھی بڑھ گئی ہے۔ نتیجتاً ہزاروں غیرملکی یہاں کھچے چلے آئے ہیں۔ دبئی ایسے غیرملکیوں کے لیے محفوظ ترین جنت ہے جو غیرمعمولی طور پر متمول ہونے کی وجہ سے انتہائی پرآسائش اور محفوظ زندگی اپنے ملکوں سے باہر گزارنا چاہتے ہیں۔

'کرول ویلیوایشن ایڈوائزری سروسز پریکٹس' کے مینجنگ ڈائریکٹر حکیم عبدالجواد نے کہا اگرچہ ان دنوں چین اور روس کے خریداروں کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم اب بھارتی سرمایہ کاروں پر انحصار ہوگا کہ وہ روسی سرمایہ کاری کی کمی کا ازالہ کر کے مندی کو روکنے میں کردار ادا کرتے ہیں یا مندی میں تیزی کا باعث بنتے ہیں۔

پراپرٹی سے متعلق اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں 10 ملین ڈالر کے عوض 431 مکانات کی دبئی میں فروخت ہوئی ہے۔ جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تھی۔

ناصر الشیخ نے روائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا 'میری تشویش درحقیقت عالمی سطح پر معاشی خرابی سے متعلق ہے کہ ہم دنیا کے کسی بھی علاقے میں ہونے والے واقعات سے بہرحال متاثر ہوتے ہیں۔' تاہم ان کا کہنا تھا کہ مقامی اور بین الاقوامی حکومتیں وسیع تر اقتصادی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں جو مستقبل میں ہاؤسنگ کے شعبے کا مستحکم رکھنے میں کار آمد ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں