سعودی عرب اور مصر کا غزہ میں فوری جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کا مطالبہ

ہماری اولین ترجیح غزہ میں جنگ روکنا ہے: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اور مصر نے ایک بار پھر مشترکہ طور پر غزہ کی پٹی میں جاری لڑائی روکنے اور جنگ سے متاثرہ شہریوں تک امداد پہنچانے پر زور دیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ مملکت غزہ کی پٹی میں لڑائی روکنے اور امداد پہنچانے کو اولین ترجیح قرار دیتی ہے۔

انہوں نے اتوار کو قاہرہ میں اپنے مصری ہم منصب سامح شکری کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ مملکت علاقائی مسائل پر مصر کے ساتھ مشترکہ تعاون کی خواہشمند ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کی طرف سے فلسطینیوں کو دی جانے والی اجتماعی سزا روکنے کے لیے متفقہ فیصلہ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل فلسطینیوں کےحوالے سے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔

فوری جنگ بندی

اس موقعے پرمصری وزیر خارجہ نے غزہ میں فوری اور جامع جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت دینے سے جنگ کا دائرہ پھیلے گا ۔

انہوں نے اس ضرورت پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کو غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کی مدد کے لیے ضروری سامان داخل کرنے کی اجازت دی جائے۔

سامح شکری نے کہا کہ قاہرہ کچھ ممالک کی جانب سے ’اونروا‘ کی فنڈنگ روکنے کے فیصلوں سے حیران ہے۔

بحیرہ احمر کشیدگی سلامتی کے لیے خطرہ ہے

مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ بحیرہ احمر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور اس کے خطے پرسنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مصر نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر سوڈان میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ایتھوپیا مصر کے ساتھ النہضہ ڈیم کے حوالے سےطے پائے معاہدے سے منحرف ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں