'اونروا' کو امدادی کارروائیوں کے لیے زیادہ مدد کی ضرورت ہے نہ کہ فنڈنگ میں کٹوتی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے 'اونروا' کے خلاف امریکہ سمیت کئی امریکی اتحادی ملکوں کی طرف سے 'فنڈز' میں کی گئی کٹوتیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ 'اونروا' کو انسانی بنیادوں پر امدادی خدمات کے لیے اس وقت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے نہ کہ اس کے لیے فنڈز روکے جانے کا موقع ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے یہ بات ہفتہ کے روز کہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے وزیر برائے شہری امور حسین الشیخ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا 'اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کو اس وقت زیادہ مدد اور 'فنڈز' درکار ہیں۔'

واضح رہے امریکہ نے ان الزامات کے بعد 'اونروا' کے ‘فنڈز’ میں کمی کردی ہے کہ 'اونروا' کے 12 کی تعداد میں اہلکار سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں میں ملوث تھے۔ امریکی دفتر خارجہ نے 'اونروا' کے ‘فنڈز’ میں اس کٹوتی کے ساتھ ہی اقوام متحدہ سے معاملے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ ان الزامات کے سامنے آنے پر پریشان ہوا ہے۔

تحقیقات سے پہلے ہی امریکہ نے 'اونروا' کو سزا دینے کا فیصلہ کر دیا۔ اس کے ‘فنڈز’ روکنے کا اعلان کیا تو بعض دیگر اتحادی ملکوں نے بھی امریکہ کی پیروی کی۔ ان پیروی کرنے والے ملکوں میں آسٹریلیا اور اٹلی بھی شامل ہیں۔ ‘فنڈز’ میں یہ کٹوتی اس کے باوجود کی جا رہی ہے کہ 'اونروا' نے اپنے کئی کارکنوں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔

حسین الشیخ فلسطینی تنظیم آزادی (پی ایل او) کے سیاسی شعبہ کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا 'اونروا' کے ‘فنڈز’ میں کٹوتی کے نتیجے میں بڑے سیاسی خطرات بھی ہوں گے اور ریلیف کی سرگرمیاں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جن ملکوں نے 'اونروا' کی امدادی ‘فنڈز’ روکے ہیں وہ ‘فنڈز’ کو فوری بحال کریں۔

خیال رہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی 'اونروا' کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کا اہتمام کرے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں