اسرائیلی آبادکاروں نے غزہ میں از سر نو آبادکاری کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بیت المقدس میں ایک کنونشن کے دوران سینکڑوں یہودی آبادکاروں نے اپنا یہ مطالبہ پیش کیا ہے کہ غزہ میں یہودی آبادکاری از سر نو کی جائے۔ نیز مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں بھی دوبارہ سے یہودیوں کو آباد کیا جائے۔

اسرائیل نے 2005 میں غزہ کو خالی کر دیا تھا اور اپنی فوج کو غزہ سے نکالنے کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کو بھی ختم کر دیا تھا۔ یہودیوں بستیوں کا یہ خاتمہ غزہ پر 38 سالہ قبضے کے بعد کیا گیا تھا۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مستقل قیام کا ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم اسرائیل غزہ میں سیکورٹی کے امور کو لامحدود وقت کے لیے اپنے کنٹرول میں رکھے گا۔

اسرائیل کے لامحدود مدت کے لیے غزہ کے سیکورٹی معاملات کو دیکھنے کے اس اعلان کے باوجود کسی قدر وضاحت موجود ہے کہ اقوام متحدہ غزہ کا مستقبل فلسطینیوں کے کنٹرول میں ہی دیکھنا چاہتا ہے۔

یروشلم میں یہ کنوینشن دائیں بازو کی یہودی تنظیم 'نہالہ آرگنائزیشن' کی طرف سے بلایا گیا تھا۔ جو اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہودی بستیوں کی مقبوضہ علاقوں بشمول مغربی کنارے توسیع کی جائے۔ جسے مغربی کنارے میں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی گروپ ان یہودی بستیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور یہودی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان مغربی کنارا مسلسل پرتشدد واقعات کا مرکز بنا رہتا ہے۔

واضح رہے 'نہالہ آرگنائزیشن' کی طرف سے منعقد کی گئی اس کانفرنس کا عنوان 'یہودی بستیاں امن لاتی ہیں' رکھا گیا تھا۔ کانفرنس کی میزبان انتہاپسند اتحادی حکومت نہیں تھی۔ اگرچہ اتحادی حکومت میں شامل انتہا پسند جماعتیں غیر قانونی یہودی بستیوں کی حمایت کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ غیر قانونی یہودی بستیوں کے لیے ان کے مؤقف کو دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل کے ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ اس یہودی بستیوں کے قیام کی حمایت میں ہونے والی کانفرنس میں اتحادی حکومت کے 12 وزراء نے شرکت کی۔ جن میں ایتمار بین گویر اور بیزیلیل سموتریچ بھی شامل تھے۔ دونوں وزراء ناجائز یہودی بستیوں کے کٹر حامی ہیں۔

سموتریچ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ بہت سے یہودی بچے جنہیں 2005 میں غزہ سے انخلاء پر مجبور کیا گیا تھا اب 2023-2024 کی جنگ کے دوران غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی صورت لڑنے اور قبضہ چھڑانے آئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس سے کیا حاصل ہوگا اور ہم نے اس کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا میرا یہ ماننا ہے کہ یہودی بستیوں کے بغیر کوئی سلامتی ممکن نہیں ہوسکتی۔ یہودی بستیاں ہماری سلامتی کی ضمانت ہیں۔

کانفرنس کے شرکاء نے بڑے پرجوش انداز میں غزہ میں واپسی کے نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ غزہ میں از سر نو یہودی بستیاں قائم کی جائیں۔

بین گویر نے غزہ سے انخلاء پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میں نے غزہ سے یہودیوں کے انخلاء کی مخالفت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ انخلاء کا مطلب یہ ہوگا کہ سڈیروٹ اور ایشکیلون پر راکٹ داغے جائیں گے۔ اگر ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ سے 7 اکتوبر ہو تو ہمیں واپس جا کر زمینوں کو حاصل کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں