اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے حوالے سے اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو غزہ میں فوجی کارروائیاں کم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی کے جائزے کے حوالے سے امریکی نیٹ ورک ’این بی سی‘ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ "اسرائیل کا حق اور فرض ہے کہ وہ حماس کے خطرے کے پیش نظر اپنا دفاع کرے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی حفاظت کرے۔ اپنے شہریوں کی جانیں بچائے۔

اسی طرح ہم اسرائیل کی جنگ میں حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ہم سات اکتوبر سے اپنے دیرینہ اتحادی کے ساتھ ہیں اوراسے اسلحے کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم یہ کرتے رہیں گے۔ ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے"۔

’این بی سی‘ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ بات اس وقت سامنے آئی جب امریکی حکام نے کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روکنے یا سست کرنے پر بات کر رہی ہے تاکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر غزہ کی پٹی میں انسانی بنیادوں پر راہداری کھولنے اور فلسطینی شہریوں کو مزید امداد فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وائٹ ہاؤس کی ہدایت پر پینٹاگان اسرائیلی درخواست کے مطابق ہتھیاروں کا جائزہ لے رہا ہے جو دباؤ کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں تاہم انھوں نے اشارہ دیا کہ کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

یہ ہتھیار پریشر پیپر ہیں

اس بات چیت سے واقف حکام نے کہا کہ امریکا نے جن ہتھیاروں کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا ہے ان میں 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولے، جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک بارودی مواد (JDAMs)، گائیڈنس کٹس ہیں جو نان گائیڈڈ بموں کو گائیڈڈ ہتھیاروں میں بدل دیتی ہیں شامل ہیں۔

لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ فضائی دفاع کی ترسیل کو سست کرنے کا امکان نہیں رکھتے ہیں، حالانکہ اس خیال کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ خطرناک فوجی ساز وسامان روکنے پر غور کر رہی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اسرائیل کو کن ہتھیاروں کی فراہمی روکیں یا ان کی ترسیل مؤخر کر دیں۔

دریں اثنا ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی حکام امریکی انتظامیہ سے بڑے بم، گولہ بارود اور فضائی دفاع سمیت مزید ہتھیاروں کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

یہ کوششیں صدر جو بائیڈن اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام کو غزہ میں حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کرنے اور شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے پر راضی کرنے میں ناکامی کے چند ہفتوں بعد سامنے آئی ہیں۔

تقسیم اور اختلاف

قابل ذکر ہے کہ امریکا اسرائیل تعلقات تقسیم اور اختلاف کی کیفیت سے گذرے ہیں۔ اختلافات کی حدت حال ہی میں غزہ کی پٹی پر تین ماہ سے جاری جنگ کے سلسلے میں بڑھی ہے۔

حالیہ رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے معاملے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست نہیں رکھتے۔ واشنگٹن میں اب بھی مایوسی کی کیفیت طول پکڑرہی ہے اور غزہ جنگ کے بعد کے حالات کے بارے میں اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

معاملات اس حد تک پہنچ گئے کہ بائیڈن کے قریبی لوگوں نے سفارش کی کہ وہ نیتن یاہو پرعدم اعتماد کا اعلان کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں