مزید کئی ممالک نےفلسطینیوں کی واحدامید’یو این‘ریلیف ایجنسی’اونروا‘ کی امدادمعطل کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

7 اکتوبر2023ء سےغزہ کے محصورعلاقے میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کے لیے واحد امید اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کو دی جانے والی امداد کو معطل کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے ’اونروا‘ کےایک درجن ملازمین کی حماس کے ساتھ ملی بھگت اور اسرائیل پر حملوں میں حصہ لینے کے الزامات کے بعد یہ ایجنسی اور اس سے امداد لینے والے لاکھوں فلسطینی ایک نئی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔

آج سوموار کو آسٹریا ان 9 دیگرممالک میں شامل ہو گیا جو اقوام متحدہ کی اس تنظیم کی فنڈنگ معطل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

’اونروا‘کی امداد معطل کیےجانے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے الزام عائد کیا کہ ’اونروا‘ کے کم سے کم 12 ملازمین نے 4 ماہ قبل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کے اچانک حملے میں حصہ لیا۔

تحقیقات کا انتظار

آسٹریا کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ ان الزامات کی مکمل تحقیقات تک ایجنسی کو امدادی رقوم کی ادائیگیاں معطل کر دے گی۔

اس نے ایک بیان میں "اونروا‘‘ اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی جامع، فوری اور مکمل تحقیقات کریں"۔

آسٹریا، امریکا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، فرانس اور دیگر ممالک پہلے ہی انہی الزامات کے بعد ’اونروا‘ کی امداد معطل کرچکےہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کل اتوار کو کہا تھا کہ انہوں نے "ملزمان" ملازمین میں سے 9 کو تحقیقات کو برطرف کردیا ہے اور ان کےخلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایجنسی کی مدد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زیادہ افراد زندہ رہنے کے لیے اس تنظیم پر انحصار کرتے ہیں۔ غزہ میں 13,000 میں سے تقریباً 3,000 بنیادی ملازمین اب بھی "اپنی کمیونٹیز کو ایک لائف لائن دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جو کسی بھی وقت فنڈز کی کمی کی وجہ سے منہدم ہو سکتی ہے‘‘۔

تاہم اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 1949ء میں قائم ہونے والی ایجنسی کو جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں