یرغمالیوں کی رہائی کا انحصار غزہ جنگ کے خاتمے پر ہے، حماس کا اعادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی قطری اور مصری ثالثین کے ساتھ ملاقات کے بعد حماس نے پیر کے روز اپنے مؤقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے یقینی خاتمے اور تمام غاصب افواج کے انخلاء کی ضرورت ہوگی۔

حماس کے سینیئر عہدیدار سامی ابو زہری نے رائٹرز کو بتایا، "پیرس اجلاس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ قابض [اسرائیل] غزہ کی پٹی پر جامع جارحیت کو ختم کرنے پر راضی ہو۔"

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ آیا اس شرط کو پورا کرنے کے بعد حماس تمام 132 یا ان میں سے کچھ یرغمالیوں کو رہا کردے گی جو اسرائیل کے بقول غزہ میں ہی موجود ہیں۔ حماس نے پہلے کہا تھا کہ مکمل رہائی کے لیے اسرائیل کو اپنی جیلوں میں حفاظتی بنیادوں پر قید ہزاروں فلسطینیوں کو رہا کرنا ہو گا۔

ثالثی مذاکرات کو قریب سے دیکھنے والے ایک فلسطینی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر کہا کہ نومبر میں ہونے والی جنگ بندی کا فالو اپ معاہدہ جس میں حماس نے درجنوں یرغمالیوں کو رہا کیا، پر دستخط کرنے کے لیے وہ چاہتا ہے کہ اسرائیل جارحیت ختم کرنے اور غزہ سے انخلاء پر راضی ہو جائے۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ عمل درآمد فوری طور پر ہو۔

عہدیدار نے کہا کہ قطر، مصر اور امریکہ کو اس معاہدے کی توثیق کرنی ہوگی۔ ان ممالک نے اتوار کو غزہ کے یرغمالیوں کے بحران پر اسرائیلی انٹیلی جنس کی سینیئر شخصیات سے بات کرنے کے لیے اعلیٰ وفود بھیجے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں