کرم شالوم راہداری کی اسرائیلی بندش، غزہ میں اشیاء خور ونوش کی ترسیل رک گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی راہداری کرم شالوم جو غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی کے لیے حال ہی میں کھولی گئی تھی۔ اسرائیلی مظاہرین نے اتوار کے روز احتجاج کر کے بند کرا دی ہے، یہ اسرائیلی مظاہرین کرم شالوم پر اسی لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کا اسرائیلی حکومت سے مطالبہ تھا کہ راہداری بند کی جائے کیونکہ وہ نہیں چاہتے غزہ میں کھانے پینے کی اشیاء جائیں۔

یوں اسرائیلی احتجاجی مظاہرین غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے ٹرکوں کو رکوانے میں کامیاب ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز سینکڑوں اسرائیلی مظاہرین اس راہداری کے سامنے جمع ہوئے تھے۔ یہ اس کے باوجود جمع ہوئے تھے کہ اسرائیلی فوج نے اس علاقے کو بند فوجی زون قرار دیا تھا۔

ان اسرائیلی مظاہرین کے حوالے سے بتایا گیا کہ بعض کا تعلق اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں سے تھا۔ جو کرم شالوم پر احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ غزہ میں کچھ بھی امدادی سامان نہ جا سکے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ انسانی تباہی کے کنارے پر ہے۔

مظاہرین میں شامل ایک شوشی سٹریکووسکی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا 'ہم نہیں چاہتے کہ غزہ میں کچھ بھی بھیجا جائے، کیونکہ وہاں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ دہشت گردوں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔'

واضح رہے بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ غزہ میں فوری ضرورت کی اشیاء کی انسانی بنیادوں پر غزہ میں فراہمی کے لیے اقدامات کرے۔ جہاں سات اکتوبر سے اسرائیل فوج مسلسل بمباری کر رہی ہے۔

غزہ میں امدادی اشیاء کی فراہمی کے لیے رفح راہداری کے علاوہ کچھ ہفتوں سے کرم شالوم راہداری سے ہو رہی تھی اتوار کے روز سے کرم شالوم راہداری کو اسرائیل نے بند کر دیا ہے۔

اب غزہ کے 24 لاکھ فلسطینیوں کو اسی ایک راہداری سے امدادی سامنا کی فراہمی ممکن رہ گئی ہے۔ مصری صدر السیسی نے چند روز قبل بتایا تھا کہ اسرائیل نے رفح کے راستے امدادی سامان کی ترسیل میں کمی کر دی ہے اور اب یومیہ چھ سو امدادی ٹرکوں کے بجائے صرف 200 ٹرک جانے دیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں