اردن حملے کا جواب دیں گے مگر ایران کے ساتھ جنگ نہیں چھیڑنا چاہتے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اردن میں ہونے والے حملے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کا جواب دینے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "بائیڈن نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس حملے کا مناسب وقت پر جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ اتوار کے روز اردن اور شام کی سرحد پر امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے میں کم سے کم تین امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد امریکی صدر پر امریکا کے اندر سے جوابی کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

حزب اللہ بریگیڈز

انہوں نے پیر کو سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایک ہی ڈرون تھا جس نے اردن اور شام کی سرحد پر واقع ٹاور 22 بیس کو نشانہ بنایا۔

اس کے علاوہ اس حملے کے پیچھے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ بریگیڈ کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

اردن کی سرحد پر ہونے والے اس حملے کے بعد امریکہ نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ صدر بائیڈن کیا جواب دیں گے؟ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ امریکا کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس حملے کا جواب ایران پر براہ راست حملے کی صورت میں دے۔

دوسری جانب ایران نے اس حملے میں ملوث ہونے سے صاف انکار کیا ہے۔ ایرانی وزارت کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ "یہ الزامات سیاسی ہیں اور ان کا مقصد خطے میں حقائق کو پلٹنا ہے"۔

قابل ذکر ہے کہ اس تازہ حملے نے بلاشبہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور اس خدشے کو ہوا دی ہے کہ سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں شروع ہونے والی جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے جس میں براہ راست ایران بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں