فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کے عہدیدار کا غزہ میں 'مکمل اور جامع' جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کو کہا فلسطینی گروپ غزہ میں "مکمل اور جامع جنگ بندی" چاہتا ہے جب ثالث قطر نے کہا کہ عارضی جنگ بندی کا فریم ورک تجویز کیا جا رہا تھا۔

طاہر النونو نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم سب سے پہلے مکمل اور جامع جنگ بندی کے بارے میں بات کر رہے ہیں نہ کہ عارضی جنگ بندی کے بارے میں،" اور مزید کہا کہ ایک بار لڑائی بند ہو جائے تو یرغمالیوں کی رہائی سمیت "باقی تفصیلات پر بات کی جا سکتی ہے"۔

7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے قطر، مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے جو فلسطینی گروپ کے جنوبی اسرائیل پر مہلک حملوں سے شروع ہوئی تھی۔

قبل ازیں پیر کو قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا تھا کہ پیرس میں سی آئی اے کے سربراہ بل برنز اور اعلیٰ اسرائیلی اور مصری سکیورٹی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے نتیجے میں مرحلہ وار جنگ بندی کا فریم ورک تیار ہوا تھا۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ فریم ورک میں یرغمال خواتین اور بچوں کو پہلے رہا کیا جائے گا اور امداد بھی محصور غزہ کی پٹی میں داخل ہوگی۔

شیخ محمد نے کہا، فریقین "اس تجویز کو حماس تک منتقل کرنے اور انہیں ایسی جگہ پر لانے کی امید کر رہے تھے جہاں وہ اس عمل میں مثبت اور تعمیری طور پر شامل ہوں"۔

پیر کو یہ واضح نہیں تھا کہ آیا حماس کو قطر کی طرف سے تجویز موصول ہوئی تھی۔

اس سے قبل قطر نے نومبر کے آخر میں لڑائی میں ایک ہفتے کے وقفے کے لیے ثالثی کی تھی جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ محصور فلسطینی علاقے میں امداد بھی پہنچی تھی۔

7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ یہ حملہ جنگ کی وجہ بنا جو اب چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔

مزاحمت کاروں نے 250 یرغمالیوں کو بھی قید کر لیا جن کے بارے میں سے اسرائیل کہتا ہے کہ 132 کے قریب غزہ میں بدستور موجود ہیں جن میں کم از کم 28 مردہ اسیروں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔

حماس کے زیرِ اقتدار علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد سے غزہ میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائی میں کم از کم 26,637 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور نوعمر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں