غزہ میں تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی معاہدے کےخدو خال کیا ہیں؟

مجوزہ معاہدے کے تیسرے مرحلے میں اسرائیلی فوجی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ سے اسرائیلی فوج کے اںخلاء کی تجویز شامل ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تقریبا چار ماہ سے جاری جنگ کے بعد خطے کے ممالک کے تعاون سے ایک عارضی جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے فرانس میں جاری بات چیت تقریبا آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے جنگ بندی معاہدے کے فریم ورک سے کسی حد تک اتفاق کیا ہے تاہم بہت سے امور حل طلب ہیں۔

ایک فلسطینی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ممکنہ نئے معاہدے کے پہلے مرحلے کی تفصیلات پر اتفاق ہوگیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان مجوزہ نئے تبادلے کا معاہدہ سوموارکو ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ پیرس میں ہونے والی میٹنگ میں اسرائیل، امریکا، مصر اور قطرکے مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بارے میں معلومات افشا ہوئیں۔ اس معاہدے کے فریم ورک میں قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی بھی شامل ہے۔

قطرنے کہا کہ وہ مجوزہ معاہدہ حماس کے سامنے پیش کرے گا۔ اسرائیل نے اس میں موجود شرائط کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں تیزی آئے گی۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ ڈیل میں 30 فلسطینیوں کے بدلے روزانہ ایک اسرائیلی کو رہا کیا جانا ہے۔ پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے دوران دوسرے مرحلے کی تفصیلات پر بات چیت کی جائے گی۔

فلسطینی ذرائع نے عندیہ دیا کہ معاہدے کا تیسرا مرحلہ غزہ میں زیر حراست اسرائیلی افسران سے متعلق ہوگا، جس میں ممکنہ معاہدے کے مطابق اسرائیل پٹی کے شہروں سے باہر نکل جائے گا اور اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد پر تعینات ہوگی۔

ذریعے نے کہا کہ حماس کے رہ نماؤں نے بیرون ملک بات چیت کی تفصیلات کے لیے حمایت کا اظہار کیا، لیکن وہ "اگلے قدم کی طرف بڑھنے کے لیے غزہ کی پٹی میں جماعت کے رہ نماؤں کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں"۔

حماس کے رہ نما اسماعیل ھنیہ نے تصدیق کی کہ حماس کو پیرس اجلاس میں جارحیت روکنے اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے پیش کی گئی تجویز موصول ہوئی ہے اور وہ اس کا مطالعہ کرنے کے ساتھ اس شرط پر حمایت کوتیار ہیں کہ غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ ختم کی جائے اور غزہ سے اسرائیلی فوج نکل جائے۔

اسماعیل ھنیہ نے منگل کے روزایک پریس بیان میں کہا کہ حماس کسی بھی سنجیدہ اور عملی اقدام یا نظریات پر بات چیت کے لیے تیارہے، بشرطیکہ وہ اقدامات اسرائیلی جارحیت کے ایک جامع خاتمے کا باعث بنیں۔ نقل مکانی پرمجبور ہمارے شہریوں کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے اور گرفتار کیے گئے ہمارے تمام شہریوں کو باعزت طور پر رہا کیا جائے۔ غزہ کا محاصرہ مکمل طور پر ختم کیا جائے، تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کی اجازت دی جائے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حماس کی قیادت کو پیرس اجلاس کے ذریعے جاری کردہ فریم ورک معاہدے اور اس کے نفاذ کی خاطرایک بات چیت کے لیے قاہرہ کے دورے کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔

بتدریج جنگ بندی

امریکی ’این بی سی‘ ٹیلی ویژن نیٹ ورک نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل، امریکا، مصر اورقطر کے مذاکرات کاروں نے پیرس میں ہونے والی ملاقات میں قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے ایک نئی ڈیل کو مکمل کرنے کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔

اس نے ایک باخبرذریعے کے حوالے سے بتایا کہ معاہدے میں غزہ میں بتدریج جنگ بندی یا 45 دن تک کی جنگ بندی، پٹی کے رہائشیوں کو امداد کی فراہمی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چار ممالک کے مذاکرات کاروں کی طرف سے طے شدہ فریم ورک میں غزہ میں باقی ماندہ امریکی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے، جس کا آغاز خواتین اور بچوں کی رہئی سے ہوگا۔ پہلے مرحلے میں حماس کے زیر حراست 35 قیدیوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے کہا کہ ’وار کیبنٹ‘ نے کل رات اس معاہدے پر بات چیت کی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مجوزہ ڈیل میں حماس کے زیر حراست ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے 100 سے 250 فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اس کی تردید کی اور کہا کہ "قیدیوں کے معاہدے سے متعلق رپورٹس غلط ہیں اور ایسے حالات ہیں اسرائیل کے لیے ناقابل قبول ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں