فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں زمین کے اوپر اور نیچے لڑ رہے ہیں, حماس کے 2000 ارکان ہلاک : اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج کے ترجمان دانیال ہگاری نے کہا کہ اسرائیلی فوجیں غزہ کی پٹی میں زمین کے اوپر اور نیچے دونوں جگہ لڑ رہی ہیں۔

انہوں نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ فوج غزہ کے جنوب میں واقع شہر خان یونس پر دباؤ جاری رکھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج اب تک خان یونس میں حماس کے دو ہزار سے زائد ارکان کو ہلاک کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ"ہم غزہ سے یرغمالیوں کی واپسی کے لیے تمام کوششیں جاری رکھیں گے۔"

ہزاروں ہلاکتیں

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کے سرکاری ذرائع کے مطابق، 7 اکتوبر کو حماس نے اچانک حملہ کر کے اسرائیلی فوجی چوکیوں میں گھس کر غزہ کی پٹی کی سرحدی غیر قانونی بستیوں پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1,140 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

حملے کے دوران تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا اور ان میں سے تقریباً 100 کو نومبر کے آخر میں جنگ بندی کے دوران رہا کر دیا گیا تھا۔ اسرائیل کے مطابق ان میں سے 132 غزہ میں موجود ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے 27 ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس حملے کے جواب میں، اسرائیل نے حماس کو "ختم کرنے" کا عزم ظاہر کیا، اور اس کے بعد سے بمباری اور تباہ کن چھاپوں کی ایک شدید مہم شروع کر دی ہے، اس کے ساتھ گذشتہ 27 اکتوبر سے زمینی حملہ شروع ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 26,422 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، غزہ کی پٹی کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی جنوب کی طرف بے گھر ہو گئی تھی، جہاں وہ کیمپوں میں یا یہاں تک کہ پارکوں، سڑکوں اور گلیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ 1.9 ملین افراد، یا تقریباً 85 فیصد آبادی کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ بہت سے لوگوں نے اس چھوٹے سے علاقے کے جنوب میں رفح یا دیگر علاقوں میں پناہ لی، جبکہ مقامی وزارت صحت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اس کے پاس ان کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں