غزہ کا قبرستان اور مسجد تباہ، حماس نے اسے سرنگ چھپانے کےلیےاستعمال کیا: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

جنوبی غزہ میں ایک اسلامی قبرستان مسمار کر کے قبروں کو زمین سے اکھاڑ دیا گیا۔ دانتوں کے بغیر ایک کھوپڑی ریتلے، الٹ پلٹ ہوئے ملبے کے اوپر رکھی ہوئی تھی۔

جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں غیر ملکی صحافیوں کو دکھایا گیا محلہ بنی سہیلہ ہفتے کے روز فوج کی جانب سے حماس کی زیرِ زمین سرنگوں کی تلاش کے نتیجے میں تباہ ہو گیا اور اس کی شکل بدل گئی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک صحافی نے ایک تباہ شدہ مسجد دیکھی - جہاں کبھی قبرستان ہوا کرتا تھا - اور ایک 140 میٹر- (گز) چوڑا گڑھا تھا جہاں اس جگہ کا راستہ تھا جس کے نیچے فوج کے بقول حماس کے حملے کی سرنگ واقع تھی۔

فوج نے پیر کو کہا کہ لڑاکا انجینئروں نے حماس نیٹ ورک کے کچھ حصے منہدم کر دیئے اور علاقے میں بڑے دھماکے دکھانے والی ایک ویڈیو جاری کی۔

جیسا کہ اسرائیل غزہ میں زمینی اور فضائی مہم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جس کے بارے میں محصور علاقے میں صحت کے حکام کہتے ہیں کہ 26,000 سے زیادہ فلسطینیوں کی جانیں گئیں تو فوج کی جانب سے مقدس مقامات کی تباہی پر فلسطینیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سخت تنقید کی گئی ہےجو کہتی ہیں یہ جارحانہ کارروائی ثقافتی ورثے پر حملہ بھی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت قبرستانوں اور مذہبی مقامات کو خصوصی تحفظ حاصل ہے اور انہیں تباہ کرنا جنگی جرم تصور کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کہتا ہے کہ حماس ایسی جگہوں کو فوجی کور کے طور پر استعمال کرتی ہے جس سے یہ تحفظ کے زمرے سے نکل جاتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ سرنگوں کو تلاش کیے بغیر حماس کو شکست دینے کے فوجی ہدف کو پورا کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے جہاں اسرائیل کے مطابق مزاحمت کاروں نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز بنا رکھے ہیں، یہاں ہتھیار منتقل کیے ہوئے ہیں اور 130 یرغمالیوں میں سے کچھ کو چھپا رکھا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حماس کے قبضے میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سرنگیں کھودنے میں مقدس جگہوں کو ناقابلِ گریز نقصان پہنچانا شامل ہے۔

ہفتے کو صحافیوں کو اپنی قیادت میں مقام کا دورہ کروانے والے اسرائیلی بریگیڈیئر جنرل ڈین گولڈفس نے کہا، "ہم اب سادہ لوح نہیں رہے۔"

اسرائیل نے غزہ کے ہسپتالوں اور ان کے ارد گرد آپریشنز میں بھی اسی طرح کے دلائل دیئے ہیں۔

گولڈفس صحافیوں کو سرنگ کے دہانے کے اندر لے آئے جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مسجد اور قبرستان کے نیچے پھیلی ہوئی تھی۔ صحافی کنکریٹ کی ایک طویل سرنگ میں دور تک چلتے گئے جس کی شاخیں متعدد سمتوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور ان کمروں کے ایک چھوٹے سے مجموعے پر پہنچے جن کے بارے میں فوجیوں نے کہا کہ اسے مبینہ طور پر حماس کے مزاحمت کار کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

اس میں گنبد والے تین کمرے شامل تھے - ایک میں چار کرسیاں اور ایک میں ڈیسک تھا اور ایک باورچی خانہ جس میں پھلیوں کے خالی ڈبے اور مصالحۃ جات کا ریک تھا۔ ایک فوجی کمانڈر نے بتایا کہ سرنگ جس میں بجلی کا ٹرانسفارمر، پنکھے، تاروں اور لائٹ سوئچز کے ساتھ پائپنگ تھی، 800 میٹر (گز) تک پھیلی ہوئی تھی اور جنوبی غزہ میں ایک بڑے سرنگ نیٹ ورک سے منسلک تھی۔ فوج کہتی ہے کہ اسے پوری غزہ کی پٹی میں سرنگوں میں ایسے ہی کمرے ملے ہیں جو خرگوشوں کی پرورش کے لیے زیرِ زمین بنائے جاتے ہیں۔

فوج نے الزام لگایا کہ ہفتے کے روز صحافیوں کو دکھائے گئے کوارٹرز میں حماس کے کمانڈر کا دفتر، ایک آپریشن روم اور حماس کے سینئر ارکان کے رہنے کے کوارٹر شامل تھے۔ اس نے کہا کہ سرنگ کو فوج کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

سیٹلائٹ کے تجزیے کے مطابق منہدم کردہ قبرستان شہداء بنی سہیلہ قبرستان معلوم ہوتا ہے۔

جب سے اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے، اس نے بارہا فلسطینی گروپ پر غزہ کے شہری مقامات کو کور کے طور پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل کہتا ہے کہ مزاحمت کاروں کے کمانڈ سینٹرز اور مورچوں کو ختم کرنے کے لیے – ہسپتالوں پر چھاپے مارنے سے لے کر قبرستانوں کی کھدائی اور مقدس مقامات کو تباہ کرنے تک – فوجی کارروائیاں ضروری ہیں۔

7 اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں نے جنوبی اسرائیل میں داخل ہو کر 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 250 کے قریب یرغمالیوں کو اپنے ساتھ غزہ لے گئے۔ نومبر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران 100 سے زائد یرغمالیوں کا فلسطینی قیدیوں سے تبادلہ کیا گیا۔

غزہ پر اسرائیل کی جوابی کارروائی نے 2.3 ملین آبادی میں سے بیشتر کو بے گھر کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مانیٹر کے مطابق فوج نے اپنی کارروائیوں کے دوران 161 مساجد کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ اس نے تباہ شدہ قبرستانوں کی تعداد کا پتہ نہیں لگایا ہے۔

ہفتے کے روز گولڈفس نے اپنا دستانے والا ہاتھ وہاں موجود گہرے گڑھے کے اردگرد گھمایا۔ مسجد کا سنہری گنبد شگاف زدہ اور شکستہ حال تھا اور اس کی پاش پاش دیواروں پر گرا ہوا تھا۔

گولڈفس نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے مسجد کو اس وقت تباہ کر دیا جب مزاحمت کاروں نے مسجد کے اندر سے ان پر فائرنگ کی۔ اسرائیلی میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں فوجیوں کو مسجد کی پہلی منزل کی دیواروں کو اڑانے کے لیے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

یونیسکو نے حماس اور اسرائیل دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ ثقافتی طور پر اہم مقامات پر حملوں سے باز رہیں۔

روم کی اساس یعنی 1998 کا وہ معاہدہ جس کی بنا پر بین الاقوامی فوجداری عدالت قائم کی گئی، کے تحت قبرستانوں اور مساجد کو "شہری املاک" کے طور پر خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مطابق ان مقامات کی تباہی کو جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کا استدلال ہے کہ ان مقامات کا تحفظ ختم ہو جاتا ہے جب یہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جائیں اور جب انہیں نشانہ بنانے سے ہونے والا آپریشنل فائدہ عام شہریوں کی زندگی اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان سے زیادہ ہو۔

گولڈفس نے کہا کہ فورسز کو علاقے میں حماس کی سرگرمیوں کے دیگر سراغ ملے ہیں ضبط شدہ اے کے-47 بندوقوں سے لے کر غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد کے نقشے تک جو ان کے مطابق حماس نے 7 اکتوبر کے حملے کے لیے استعمال کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مسجد کو تباہ کرنا اور قبرستان کی کھدائی اس علاقے میں تقریباً 60 سرنگوں کے دہانوں کی تلاش کے لیے ناگزیر تھا۔ صحافیوں کو صرف ایک دہانہ دکھایا گیا۔

گولڈفس نے کہا کہ سرنگ کے نیٹ ورک کا انہدام افواج کے لیے گویا ایک "معمہ" بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات حتیٰ کہ انسانی باقیات کو نقصان پہنچائے بغیر علاقے میں کام کرنا مشکل ہے۔

قبرستان سے نکلنے والی لاشوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا، "ہم انہیں ممکنہ حد تک ایک طرف منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں جب آپ اس جگہ لڑ رہے ہوں اور آپ کا دشمن آپ کو بار بار گھیر رہا ہو اور ان مقامات کو چھپنے کے لیے استعمال کر رہا ہو تو آپ کچھ زیادہ نہیں کر سکتے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں