مشرق وسطیٰ

قیدیوں کی سب سے بڑی ڈیل پر مذاکرات، امریکہ اور اسرائیل پُرامید

ڈیڑھ ماہ کی جنگ بندی کی تجویز میں ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی زیر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے غزہ میں حماس کے زیر حراست قیدیوں کی ایک مزید گروپ کو رہا کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت تعمیری اور امید افزا ہے، لیکن ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی بریٹ میک گرک نے گذشتہ چند دنوں کے دوران مذاکرات کے ایک سلسلے میں حصہ لیا جس میں قیدیوں کی رہائی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

"تعمیری مذاکرات"

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے’سی این این‘ کو بتایا کہ "میرے خیال میں (مذاکرات) کو تعمیری قرار دینا مناسب ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یرغمالیوں کے بارے میں ایک اور معاہدے کے لیے ایک فریم ورک موجود ہے۔ تاہم اس کو عملی شکل دینے میں وقت لگ سکتا ہے‘‘۔

"100 سے زیادہ یرغمالیوں کی رہائی میں سہولت فراہم کرنا۔"

امریکی صدر جو بائیڈن سات اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں پر حماس کے عسکریت پسندوں کے خونی حملے کے بعد غزہ میں قید 100 سے زائد مغویوں کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برنز نے اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے سربراہ، قطری وزیر اعظم، اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ سے اتوار کو ملاقات کی۔ بات چیت کو اسرائیل نے تعمیری قرار دیا، لیکن اس بات کا عندیہ دیا کہ ابھی اس میں بڑے خلاء ہیں۔

"مثبت پیش رفت"

جان کربی نے کہا کہ قطری، مصری اور اسرائیلی حکام کے ساتھ جو بات چیت ہوئی وہ بہت اچھی رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے ابھی فنش لائن کو عبور نہیں کیا ہے، لیکن ہم بات چیت، ان کی تجاویز اورنتائج کے حوالے سے مطمئن ہیں جو بہت اہم ہو سکتا ہے"۔

45 دن کی جنگ بندی

دریں اثناء اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ جنگی کونسل نے کل پیر کو اس پیشکش پر غور کیا۔ جس میں پہلے مرحلے میں حماس کے زیر حراست 35 قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں 45 روزہ جنگ بندی شامل ہے۔

i24 نیوز ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ جنگی کونسل کی طرف سے زیر بحث آنے والی پیشکش میں حماس کے زیر حراست ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے 100 سے 250 فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

سب سے بڑا ممکنہ تبادلہ

انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ معاہدہ مکمل ہونے کی صورت میں رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی کل تعداد 4000 سے 5000 کے درمیان ہو جائے گی۔ یہ جنگ کے بعد کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہو گی۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حماس کے خاتمے کے لیے اسرائیلی جنگ کا باعث بنا، جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوا اور 26 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں