فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی جوابی اقدام اسرائیل اور حماس کے یرغمالی مذاکرات کو خطرے میں ڈال دے گا: قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قطر کے وزیرِ اعظم نے پیر کے روز اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اردن میں جس ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے، اس پر امریکہ کی جوابی کارروائی نئے معاہدے کی طرف پیش رفت کو متاثر نہیں کرے گی جو اس ہفتے کے آخر میں ہونے والی بات چیت میں اسرائیل اور حماس کے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونا ہے۔

کیا ایران کے حمایت یافتہ مزاحمت کاروں کے حملے پر امریکہ کی جوابی کارروائی یرغمالیوں کی رہائی کے نئے معاہدے کو متأثر کر سکتی ہے، اس سوال کے جواب میں قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی نے واشنگٹن کے تھنک ٹینک کے سامعین سے کہا، "مجھے امید ہے کہ کوئی بھی بات ان کوششوں کو کمزور نہیں کرے گی جو ہم کر رہے ہیں اور نہ ہی اس عمل کو خطرے میں ڈالے گی۔"

اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی افواج کے خلاف یہ پہلا مہلک حملہ تھا اور اس سے کشیدگی میں بڑے اضافے کی نشاندہی ہوئی جس نے شرقِ اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے شیخ محمد کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی موساد انٹیلی جنس سروس کے سربراہ اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ سے اتوار کے روز پیرس میں گفتگو کے لیے ملاقات کی جسے اسرائیل، قطر اور امریکہ نے تعمیری قرار دیا ہے اگرچہ ان میں اہم خلا باقی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن ان سو سے زیادہ یرغمالیوں کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں غزہ پر حکمرانی کرنے والی حماس نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں ایک مہلک حملے میں اغوا کر لیا تھا۔

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ پیرس مذاکرات نے قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکراتی عمل کے دوبارہ شروع ہونے کی امید فراہم کی ہے جو نومبر میں ہونے والے پہلے معاہدے کے بعد ٹوٹ گیا تھا جس میں حماس نے 100 کے قریب یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

انہوں نے نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں کہا، پیرس میں تیار کردہ ممکنہ دوسری ڈیل کے لیے تیارکردہ فریم ورک "مضبوط اور زوردار ہے جو ۔۔۔ امید دلاتا ہے کہ ہم اس عمل میں واپس آ سکتے ہیں۔"

بلنکن نے کہا، "حماس کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے،" جنہوں نے اس تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

اسرائیل کے مطابق حماس کے حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 253 اغوا ہوئے جو حماس کے خاتمے کے لیے اسرائیل کی جنگ کی وجہ بنا۔ فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیل نے اس کے بعد سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے زیادہ تر فلسطینی انکلیو تباہ ہو گیا ہے اور 26,000 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے فضائی اور زمینی حملے شروع کرنے کے بعد سے شرقِ اوسط میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی افواج نے بحیرۂ احمر میں امریکی اور دیگر اہداف پر حملوں میں عالمی جہاز رانی کو متأثر کیا ہے۔

امریکی حکام نے اتوار کو کہا کہ شام کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اردن میں امریکی فوجیوں پر ایرانی حمایت یافتہ مزاحمت کاروں کے حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم 34 زخمی ہو گئے۔

واشنگٹن کے اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیرِ اعظم نے کہا کہ امریکی جوابی کارروائی کا "ضرور اثر ہو گا... کسی نہ کسی طرح اس کا اثر علاقائی سلامتی پر ضرور اثر ہو گا اور ہمیں امید ہے کہ معاملات قابو میں رہیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں