اسرائیل نے شامی فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کیا: فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام سے راکٹ فائر کے جواب میں رات بھر ملکی فوج کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

فوج نے ایک بیان میں کہا، "گذشتہ رات شام سے جنوبی گولان کی پہاڑیوں کی طرف کئی حملوں کی نشاندہی کی گئی۔"

"اس کے جواب میں (اسرائیلی) دفاعی افواج کے لڑاکا طیاروں نے رات بھر درعا کے علاقے میں شامی حکومت کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔"

جنوبی شام پر حملوں سے ہونے والے کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں شام سے چھین کر گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد ازاں اس اقدام کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا تھا۔

فوج شام میں انفرادی حملوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتی ہے لیکن بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ ایران کو جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرتا ہے، خطے میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کی اجازت نہیں دے گی۔

اسرائیل نے شام میں ایک عشرے سے زائد خانہ جنگی کے دوران سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جن میں بنیادی طور پر ایران کی حمایت یافتہ افواج کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی پوزیشنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

7 اکتوبر کو اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایسے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس وار مانیٹر نے کہا کہ پیر کو شام میں اسرائیلی حملوں میں ایران نواز مزاحمت کاروں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے۔

اسرائیل اور حماس کے ایرانی حمایت یافتہ اتحادی حزب اللہ کے درمیان قریب قریب روزانہ فائرنگ کے تبادلے کے ساتھ اسرائیل-لبنان کی سرحد پر بھی تشدد کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

بدھ کو اسرائیلی فوج نے تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ اس کے توپ خانے نے جنوبی لبنان میں کئی مقامات پر گولہ باری کی۔

اے ایف پی کے ایک شمار کے مطابق 7 اکتوبر سے لبنان میں اسرائیلی فائرنگ سے 200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر حزب اللہ کے مزاحمت کار تھے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق سرحد کی اسرائیلی جانب نو فوجی اور چھ شہری مارے گئے ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں