بن گویر کی دھمکی کے بعد یائرلپیڈ نے کس شرط پر نیتن یاہو کو’تعاون" کی یقین دہانی کرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے ڈگمگاتی اسرائیلی حکومت سے کہا ہے کہ اگر حکومت حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر پہنچ جاتی ہے تو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو بچانے میں ان کی مدد کریں گے تاکہ حکومت کو گرنے سے بچایا جا سکے۔

لپیڈ نے ایک بیان میں کہا کہ "حکومت کسی بھی معاہدے کے لیے حفاظتی جال حاصل کرے گی مگر ایسا یرغمالیوں کی ان کے گھروں کو واپسی کی صورت میں ہو سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان معاہدہ یہ طے کرتا ہے کہ ریاست نہ صرف ان کی زندگیوں کی ذمہ دار ہے بلکہ ان کی صحت اور زندگی بچانے کی بھی ذمہ دار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ معاہدہ 7 اکتوبر کو ٹوٹ گیا تھا اور ہمارے پاس اپنے شہریوں کو بچانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے لیکن ہمیں یرغمالیوں کو ان کے گھروں کو واپس کرنا ہوگا۔ ورنہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمارے تعلقات میں کوئی بہت بنیادی چیز ٹوٹ جائے گی"۔

لپیڈ نے کہا کہ 116 دن کی جنگ کے بعد انہوں نے یرغمالیوں کے درجنوں خاندانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ انہیں رہا کرائیں گے، انہوں نے کہا کہ"میں نے ان سے وعدہ کیا تھا اور میں نے اپنا وعدہ دہرایا۔ ہم حکومت کو ایک حفاظتی جال فراہم کریں گے۔ کوئی بھی ایسا معاہدہ جو یرغمالیوں کو ان کے گھروں اور خاندانوں کو واپس کرے حکومت کی بقا کا ضامن ہوگا۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے دھمکی دی تھی کہ اگرحکومت نے حماس کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ کیا جس سے وہ مطمئن نہ ہوئے تو وہ حکومت سے دستبردار ہو جائیں گے۔

بن گویر کی سربراہی میں انتہائی دائیں بازو کی یہودی پاور پارٹی نے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے ساتھ اتحاد کے ذریعے اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں 14 نشستیں حاصل کیں۔اگر وہ حکومت سے دستبردار ہو جاتی ہے تو حکومت تحلیل ہوجائے گی اور اسرائیل ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کی طرف بھی جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں