تیرہ برس بعد امارات اور شام کے تعلقات مکمل بحال، اماراتی سفیر دمشق پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات اور شام کے درمیان 13 برس کے تعطل کے بعد دو طرفہ تعلقات کی مکمل بحالی ہو گئی ہے۔ امارات کے سفیر حسن احمد الشیشی نے دمشق میں ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ شام کے وزیر خارجہ نےسفیر کی اسناد سفارت وصول کر لیں۔

واضح رہے 13 برس پہلے منقطع کیے گئے تعلقات میں 2018 میں ایک بہتری آئی اور امارات نے شام میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول لیا۔ تاہم باضآبطہ سفیر بھیجنے کے بجائے دمشق میں ناظم الامور مقرر کر دیا۔ تب سے امرات کے سفارتی مشن کے انچارج ناظم الامور ہی رہے۔

حالیہ عرصے میں مزید پیش رفت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پیر کے روز سفیر حسن احمد الشیشی نے دمشق پہنچ کر سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اس خبر کی تصدیق حکومت کے حامی اخبار روزنامہ الوطن نے بھی کر دی ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد مارچ 2022 میں خلیج کی ممالک کے دورے پر ائے یہ ان کا طویل عرصے بعد عرب ملکوں کا پہلا دورہ تھا۔ 13 برس کی جنگ کے دوران باہمی تعلقات ختم ہوگئے تھے۔ بشار الاسد کے دورے کے بعد 6 فروری 2023 کو آنے والے زلزلے سے ترکیہ اور شام میں وسیع پیمانے پر ہلاکتیں اور تباہی ہوئی تو متحدہ عرب امارات کی طرف سے درجنوں طیاروں پر مشتمل امدادی سامان شام بھجوایا گیا۔

پچھلے سال ماہ مئی میں 22 رکنی عرب لیگ نے اتفاق کیا کہ شام کی رکنیت کو بحال کر دیا جائے۔ یہ عرب دنیا کا بشار الاسد کی طرف اہم قدم تھا کہ ایک طویل عرصے بعد عرب دنی امیں جاری تنازعات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بشارا الاسد جو 2022 تک دو مرتبہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کر چکے تھے انہوں نے سعودی عرب میں منعقدہ عرب لیگ کے اجلاس میں 2023 میں شرکت کی۔

اب متحدہ عرب امارات کے سفیر الشیشی ایسے موقع پر دمشق پہنچے ہیں جب ملک شام شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ ملک میں خانہ جنگی کے دوران 5 لاکھ لوگ مارے جا چکے ہیں، لاکھوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے اور ملک کا بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے۔

شام پر مغربی دنیا کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باعث ابھی اس امر کا امکان نہیں ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال عرب ملکوں کی طرف سے شام کو دولت کی منتقلی ہوسکے یا معاشی معاونت دی جا سکے۔ تاہم یہ ضرور ہوگیا ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں خرابی کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے شام میں اس وقت ایک امریکی ڈالر کے بدلے میں 16 ہزار شامی پاؤنڈز مل جاتے ہیں۔ 11 سال پہلے امریکی ڈالر کی قیمت 47 شامی پاؤنڈز تھے۔ شام کی کرنسی میں بدترین گراوٹ نے اس کی معاشی حالت اور عام آدمی کی زندگی کو تباہ کر رکے رکھ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق شامی حکومت کے زیر قبضہ نوے فیصد علاقے میں غربت کا راج ہے۔ تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے سخت پریشان ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس کے باوجود یہ اعلان کیا ہے کہ وہ خوراک کے سلسے میں اپنی معاونت کا پروگرام ختم کر رہا ہے۔ شام میں اس وجہ سے کافی تفتیش پائی جاتی ہے۔ 2011 میں جنگ شروع ہونے کے بعد متحڈہ عرب امارات نے دمشق سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں