لبنان میں فلسطینیوں کا اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کی امداد روکنے کے خلاف احتجاج

لبنان میں موجود فلسطینی پناہ گزین اونروا کی امداد رک جانے پر اپنے مستقبل سے خوفزدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

درجنوں افراد منگل کو بیروت میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کے باہر جمع ہو گئے اور متعدد ممالک کی طرف سے ادارے کے لیے فنڈنگ معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں ادارے کے عملے کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کم از کم 12 اہم ڈونر ممالک نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کے بعد اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کی امداد روک دیں گے جبکہ ایجنسی نے کئی ملازمین کو برطرف کر دیا ہے اور دعووں کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

لبنان میں حماس کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے والے 65 سالہ فلسطینی پناہ گزین ابو محمد نے کہا، "ہم اونروا کے مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔"

انہوں نے ممالک پر "اپنا فیصلہ واپس لینے کے لیے" زور دیتے ہوئے کہا، "ہمارے تمام بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور ہماری زیادہ تر طبی نگہداشت ایجنسی کے ذریعے ہوتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "امداد کی معطلی سماجی اور انسانی نقطۂ نظر سے تباہ کن ہوگی۔"

اونروا پر مشرقی یروشلم سمیت اردن، لبنان، شام، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں رہائش پذیر فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے انسانی امداد اور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔

چھوٹا سا ملک لبنان اونروا کے مطابق 250,000 فلسطینی پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا ہے جبکہ تنظیم کی خدمات کے لیے رجسٹرڈ افراد اس تعداد سے تقریباً دوگنا ہیں۔

زیادہ تر غربت کا شکار ہیں۔

ایک فلسطینی اور اپنے چار بچوں کی واحد کفیل 40 سالہ ماں دیما دہوک نے کہا، "اگرچہ میرے پاس نوکری ہے لیکن اونروا سے مجھے اپنا کرایہ ادا کرنے اور کھانا خریدنے میں مدد ملتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "میرا بیٹا جو انجینئر بننے کا خواب دیکھتا ہے، اسے عارضی طور پر اسکول چھوڑنا پڑا" تاکہ خاندان کی کفالت میں مدد کی جا سکے۔

لبنان میں چار سال سے جاری معاشی بحران نے زیادہ تر آبادی کو غربت کا شکار بنا رکھا ہے، اس کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا، "صورتِ حال خوفناک ہے۔"

امدادی گروپوں نے منگل کے روز غزہ میں "بدتر ہوتی ہوئی انسانی تباہی" اور "سر پر منڈلاتے قحط کے خطرے" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اونروا کی فنڈنگ معطل کرنے والے ممالک کی مذمت کی۔

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا کہ فنڈنگ کا معاملہ فلسطینی سرزمین پر انسانی تباہی سے توجہ ہٹا رہا ہے۔

لبنان میں حماس کے ایک عہدیدار رفعت المرا نے کہا، اونروا فنڈنگ کے بحران کے "فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے نتائج خطرناک ہیں بالخصوص لبنان میں جہاں وہ لبنانی ریاست کی طرف سے امداد کی عدم موجودگی میں بنیادی طور پر اونروا پر انحصار کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے اقوامِ متحدہ سے فوری اقدامات اٹھانے اور مزید مالی امداد کے ذرائع تلاش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔"

تقریباً 5.9 ملین فلسطینی اونروا میں رجسٹرڈ ہیں اور صحت کی نگہداشت، سماجی خدمات، مائیکرو فنانس اور ہنگامی امداد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

غزہ کی اب تک کی مہلک ترین جنگ 7 اکتوبر کو حماس کے بے مثال حملے سے شروع ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائی سے غزہ میں کم از کم 26,751 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں