لندن کے الزامات کے بعد ایران کا برطانوی سفیر کو طلب کر کے احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے برطانوی سفیرکو طلب کر کے انہیں ایران کے خلاف لندن کے "الزامات" کے سلسلے میں تہران کے "سخت احتجاج" سے آگاہ کیا ہے۔

ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ "برطانوی حکومت کے ایران کے خلاف مسلسل الزامات کے بعد تہران میں برطانوی سفیر سائمن شرکلف کو کل منگل کی سہ پہر دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا اور ایران کی طرف سے 'سخت احتجاج' ریکارڈ کیا گیا۔

وزارت خارجہ نے پریس ریلیز میں اس احتجاج کی وجہ بتائےنہیں بتائی گئی تاہم کہا گیا ہے کہ اس نے یہ اقدام برطانیہ کی طرف سے الزامات کے جواب میں کیا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے منگل کو ایران پر زور دیا کہ وہ حوثیوں اور خطے میں موجود دیگر مسلح دھڑوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ "ہم مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حصول کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں"۔

اس تناظرمیں برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے منگل کو سلطنت عمان کا دورہ کیا۔ جہاں وہ بحیرہ احمر میں جاری حوثیوں کے حملوں کےدوران علاقائی استحکام اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیں گے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے اپنے چوتھے دورے پر کیمرون اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ملاقات کریں گے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملے ان کی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیمرون یمن کو امداد پہنچانے کے لیے برطانیہ کے عزم کا اعادہ کریں گے اور ان اقدامات کا تعین کریں گے جو برطانیہ حوثیوں کو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے اٹھا رہا ہے۔

امریکا اور برطانیہ نے رواں ماہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر ایک سے زیادہ مرتبہ حملے کیے ہیں جس کا مقصد بحیرہ احمر میں نیوی گیشن کو خطرہ بنانے اور عالمی تجارت کو نقصان پہنچانے کے لیے گروپ کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں