چار سال میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا نیتن یاھو کا خفیہ منصوبہ

غزہ میں اسرائیلی فوجی حکومت، غزہ سے حماس کا وجود ختم، محمود عباس فلسطینی اتھارٹی سے فارغ کرنے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایک خفیہ منصوبے کی خصوصیات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ میں ایک فوجی حکومت کی تشکیل اور چار سال کے اندر مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قیام کی خواہش شامل ہے۔

اخبار نےاس منصوبے کی تفصیلات کو "نیتن یاہو کی سٹریٹجک چال" کے طور پر بیان کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو غزہ میں ایک اسرائیلی فوجی حکومت بنانا چاہتے ہیں جو ایک عبوری مدت کے لیے امداد کی نگرانی کرے گی۔ اس طرح اسرائیل کو غزہ میں فوجی کاررائیاں جاری رکھنے کا حق ہوگا اور وہ غرب اردن میں بھی فوجی کارروائیاں کرسکے گی۔

اس منصوبے میں حماس یا محمود عباس کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ منصوبے میں ایک نئی فلسطینی اتھارٹی اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی میں تبدیلیاں اور اصلاحات کرنا بھی شامل ہیں۔

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو کا منصوبہ ایک ایسا اتحاد تشکیل دینا ہےجس میں عرب ممالک شامل ہوں، نئی فلسطینی اتھارٹی کے قیام کی حمایت کریں، تاکہ اگر یہ منصوبہ ایک مخصوص ٹائم ٹیبل کے اندر کامیاب ہو جائے تو اسرائیل فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

اخبار نے اطلاع دی ہے کہ یہ خفیہ منصوبہ جسے اسرائیل میں تیار کیا گیا تھا امریکی سرکاری شخصیات کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ منصوبہ کئی دیگراقدامات کے ساتھ ساتھ اگلے دن کے لیے اسرائیل کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اخبارنے لکھا ہے کہ "کچھ سوال باقی ہیں، کیا نیتن یاہو کسی ایسے تاریخی اقدام کی طرف بڑھ سکتے ہیں جو غزہ کے تنازع کو ختم کرے اور مملکت سعودی عرب کے ساتھ تاریخی امن معاہدے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے؟"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں