کیا ایران کے پراکسی مشرق وسطیٰ میں تہران کے لیے مشکلات کھڑی کر رہے ہیں؟َ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کےمطابق سات اکتوبر کو حماس کے مہلک حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے کے ہفتوں بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک اتحاد میں ملیشیا کے رہ نماؤں کا ایک اجلاس بلایا جسے تہران " مزاحمت کا محور" کا نام دیتا ہے۔

اخبارنے رپورٹ کیا کہ یہ حملہ جسے خامنہ ای نے عوامی طور پرایک "حیران کن فتح" قرار دیا۔ یہ واقعہ دشمنوں کو دھمکانے اور اپنے اثر و رسوخ والے گروپوں اورغیر ریاستی مسلح گروہوں کے نیٹ ورک کو تربیت دینے اور مسلح کرنے کے لیے چار دہائیوں کا نقطہ عروج ہے۔

حماس اور حزب اللہ کے دو سینیر عہدیداروں کے مطابق بند دروازوں کے پیچھے ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای نے حماس کے سینیر نمائندوں کے ساتھ ساتھ لبنانی، عراقی، یمنی اور دیگر فلسطینی ملیشیا کے رہ نماؤں کو بتایا کہ تہران کا براہ راست جنگ میں داخل ہونے اور جنگ کا دائری پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے مختلف جماعتوں کے رہ نماؤں کو بتایا کہ ضمنی لڑائیوں سے غزہ میں تباہ کن اسرائیلی دراندازی سے دنیا کی توجہ ہٹنے کا خطرہ ہے۔ یہ پیغام دیا جائے کہ حماس اکیلی ہی جنگ لڑ رہی ہے۔

اب مزاحمتی محور کو اپنی سچائی کے لمحے کا سامنا ہے۔ ایران کے اتحادی بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں سے لے کر اردن میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ڈرون حملے تک پورے خطے میں مزید آگ بھڑکا رہے ہیں۔ وہ اپنے حقیقی محسن کو امریکا کے ساتھ جنگ کے دہانے پر دھکیل رہے ہیں جس نے ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کی ہے۔

ایرانی فوجی اور مالی طاقت مزاحمتی اتحاد کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن تہران اس پر مکمل کمان اور کنٹرول استعمال نہیں کرتا۔

تمام اراکین ایران کے شیعہ نظریے میں شریک نہیں ہیں اور تمام گروہوں کے اپنے مقامی ایجنڈے ہیں جو بعض اوقات تہران کے ساتھ متصادم ہوتے ہیں۔ کچھ جغرافیائی طور پر الگ تھلگ علاقوں میں کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ایران کے لیے ہتھیار، مشیر اور تربیت فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق اس میں حماس بھی شامل ہے جوایک سنی تحریک ہے۔ اسے ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

امریکی حکام نے اتوارکے ڈرون حملے کا الزام ایرانی حمایت یافتہ گروپ پر لگایا۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو کہا کہ اس کا خیال ہے کہ مرتکب افراد کو عراق میں قائم ایک ایرانی اتحادی کتائب حزب اللہ ملیشیا کی حمایت حاصل تھی۔

ایران خود کوملیشیا سے دور رکھ سکتا ہے یہاں تک کہ جب وہ ایران کے اسٹریٹجک مفادات کو پورا کرتا ہے، کیونکہ اس کا خطے میں امریکی اور اسرائیلی طاقت کا سامنا ہے۔

سی آئی اے میں مشرق وسطیٰ کے ایک سابق ماہر نارمن رول نے کہا کہ اس نقطہ نظرسے تہران کو اسرائیل اور امریکا کی طرف سے ہر طرح کی انتقامی کارروائیوں سے بچنے کا موقع مل گیا مگر اس سے خطے میں اس کی مذہبی بالا دستی کمزور ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ "ایرانی جارحیت" میں "اب ہمیشہ ایسے اقدامات شامل ہیں جو تہران سے منسوب کیے جاتے ہیں لیکن ایران معقول طور پر انکار کر سکتا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں