مشرق وسطیٰ

اونروا کی جگہ اسرائیل غزہ میں امداد تقسیم کرے ۔۔ نیتن یاہو کا نیا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنز ورکس اینڈ ریلیف ایجنسی (UNRWA) اونروا کو عطیات دینے والے متعدد ممالک کی جانب سے ایجنسی کے لیے اپنی فنڈنگ روکنے کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹریش نے ایک نئے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔

عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اسرائیلی وزیر خزانہ کے حوالے سے منصوبے کا جو بلیو پرنٹ شائع کیا ہے اس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد اونروا کے بجائے اسرائیل کے ذریعے تقسیم کیے جانے کے امکان کا جائزہ لے۔

اسرائیل براہ راست امداد تقسیم کرے

سموٹریش کا مزید کہنا تھا کہ منصوبے کے تحت غزہ میں اونروا کی جگہ اسرائیلی فوج براہ راست اہالیاں غزہ میں امداد تقسیم کرے گی۔

نیتن یاہو نے بدھ کے روز ایک بیان میں الزام عاید کیا تھا کہ عالمی ادارے کے تحت چلنے والی ایجنسی میں ’’حماس نے مکمل طور پر نقب لگا رکھا ہے۔‘‘

اسرائیل نے الزام لگایا تھا کہ سات اکتوبر کو کیے جانے والے حملے میں ایجنسی کے کچھ اہلکار ملوث تھے، جس کے بعد عطیات دینے والے کئی ملکوں نے اپنی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا تھا۔

’’اونروا مکمل طور پر ہیک ہو چکی‘‘

القدس میں اقوام متحدہ کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’’اونروا کو حماس نے مکمل طور پر ہیک کر لیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا ’’کہ اس وقت یو این ایجنسیوں کی جگہ دوسرے اداروں کو امداد کی تقسیم کا فریضہ سونپنے کی ضرورت ہے۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اجلاس کے مختصر ویڈیو کلپ جاری کیے ہیں جن کے مطابق ’’ایجنسی [اونروا] سکول سمیت دیگر کئی چیزوں میں حماس کی خدمت پر مامور تھی۔‘‘

امداد روکنے والے ملک

امریکہ کی پیروی میں برطانیہ، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، نیوزی لینڈ، کینیڈا، آسٹریلیا اور جاپان وغیرہ بھی ایجنسی کے لیے فنڈنگ روکنے والے ملکوں شامل ہو چکے ہیں اور ان سب نے بھی 'اونروا' کے لیے فنڈز کی فراہمی روک دی ہے۔

اگرچہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام ملکوں سے اپیل کی ہے کہ 'اونروا' کی بےگھر افراد کی دیکھ بھال کے تسلسل لیے امداد جاری رکھی جائے۔

سعودی عرب نے بھی اقوام متحدہ کی اسی اپیل کے امداد میں مؤقف کو اپنایا ہے کہ 'اونروا' کارکنوں پر الزامات کی تحقیقات سامنے لائی جائیں تاہم 'اونروا' کے لیے فنڈنگ جاری رکھی جائے۔

یہ مؤقف ایسے حالات میں سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیل کے ایک سابق وزیر خارجہ نوگا اربیل یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ 'اونروا' کو تباہ کیے بغیر غزہ کی جنگ جیتنا ناممکن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں