ایران کا ماتمی بیانیہ امریکہ کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا کفارہ بن سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے اس بارے میں کوئی راز نہیں رہنے دیا کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم نہیں چاہتے۔ ان کی اس سوچ کا تعلق وائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے بعد شروع دن سے ایران کے بارے میں سفارتی پالیسی سے ہے۔ جس کے تحت صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ اس جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش شروع کی جو 2015 سے ختم کر دیا گیا تھا۔ اب جبکہ پچھلے ہفتے ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے شام اور اردن کی سرحد کے نزدیک ڈرون حملہ کر کے تین امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے تو صدر جو بائیڈن نے اس واقعہ کا الزام انتہا پسند ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں پر عائد کیا ہے۔ تاہم امریکی صدر کو اس وقت ایک غیر مثالی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ ایران پر حملے کریں۔

امریکہ اس وقت دو اہم دھڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک دھڑا جو بائیڈن کی ایران کے بارے میں پالیسی پر تنقید کرنے والا ہے۔ حتیٰ کہ حالیہ قریبی حملوں کے حوالے سے اس کا یہی مؤقف ہے کہ ایران میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کیے جانے چاہییں کہ یہی ایک طریقہ ہے جس سے امریکہ اپنے تحفظ اور دفاع کو یقینی طور پر بحال رکھ سکتا ہے۔

دوسرا دھڑا سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کرنے والی ایرانی حمایت یافتہ حماس کے بارے میں تحمل کا مشورہ دینے والا ہے۔ اس دھڑے کا نقطہ نظر یہ ہے کہ غزہ میں جنگ نے پہلے ہی پورے خطے کو جنگی شعلوں کے خطرے کی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس لیے تحمل اور بھی ضروری ہے۔

سرکاری تجزیہ کار اور مبصرین جو اسی ذہن کے ساتھ سوچتے ہیں کا مؤقف ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکی فوجیوں پر حملے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی پر آمادہ کرے۔ سیاسی تجزیہ کار اور ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف ایک سینیئر مشیر پروفیسر سعید گولکر کہتے ہیں 'میں یہ یقین نہیں رکھتا کہ جو بائیڈن ایران پر براہ راست حملہ کرے گا۔'

گولکر نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا 'جوبائیڈن کی طرف سے اس امر کا امکان زیادہ ہے کہ وہ ایران پر براہ راست حملہ کرنے کے بجائے ایران سے جڑے شام اور عراق کے اہداف پر حملوں کو ترجیح دیں۔ امریکہ کی موجودہ قومی سلامتی ٹیم اور صدر جو بائیڈن کے ابتدائی ردعمل کو دیکھتے ہوئے مجھے شبہ ہے کہ ایران کے اندر تک امریکی حملے ہوں گے۔'

مرکز برائے مشرق وسطیٰ اور عالمی نظام کے ڈائریکٹر علی فتح اللہ نژاد کا اس بارے میں بھی یہی کہنا ہے کہ ایرانی سرزمین پر امریکی حملے مشکل ہیں۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ خطے میں کسی اور جگہ امریکہ ایرانی اہداف کو نشانہ بنا لے۔

ایک اور پہلو جس پر عام طور پر نظر نہیں دوڑائی جاتی وہ یہ ہے کہ ایران شروع سے ہی امریکہ کے ساتھ ایک کھلی جنگ سے گریز کی پالیسی پر چل رہا ہے۔ اگرچہ عوامی سطح پر اس کا بیانیہ امریکہ کے لیے سخت مخاصمت پر مبنی اور دھمکی آمیز رہتا ہے۔ 1979 جب آیت اللہ خمینی نے ایران میں اپنی حکومت قائم کی تھی تب سے لے کر آج تک ایران نے خود کو امریکہ کے ساتھ کھلے جنگی تصادم میں لانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ایران کی حکمران رجیم کی کوشش یہی رہی ہے کہ وہ اپنے تحفظ اور بچاؤ کو اولیت دے نہ کہ امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ۔

ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف قائم کیے گئے فورم میں پالیسی ڈائریکٹر جیسون براڈسکی کا اس بارے میں العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا 'میرا خیال یہ ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای امریکہ سے براہ راست جنگ نہیں چاہتے بلکہ وہ ہر قیمت پر اپنے اقتدار کو بچانے کو ترجیح رکھتے ہیں۔ یہ پالیسی آیت اللہ خمینی کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ جنہوں نے 16 نومبر 1981 کو بطور سپریم لیڈر ایران اپنے خطاب میں کہا تھا 'اسلامی حکومت کی حفاظت کسی بھی فرد کی حفاظت سے زیادہ ضروری ہے۔ وہ فرد خواہ امام مہدی ہی کیوں نہ ہو۔' ایک شیعہ ملک میں ایک شیعہ رہنما کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔'

امریکی صدر جو بائیڈن کو 29 جنوری، 2024 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اردن میں امریکی چوکی پر ہونے والے مہلک ڈرون حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ (رائٹرز کے ذریعے ہینڈ آؤٹ)
امریکی صدر جو بائیڈن کو 29 جنوری، 2024 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اردن میں امریکی چوکی پر ہونے والے مہلک ڈرون حملے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ (رائٹرز کے ذریعے ہینڈ آؤٹ)

کیونکہ شیعہ مسلمانوں کے ہاں بارہ اماموں کی حیثیت ان کے عقائد کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور امام مہدی کو وہ متوقع بارھواں امام سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود آیت اللہ خمینی نے ایران کی اسلامی حکومت کو امام مہدی کے تحفظ سے بھی زیادہ اہم قرار دیا۔

یہ سوچ اور ذہنیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کے لیے اہم تر اس کا تحفظ ہے۔ یہی ذہنیت قدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی کے جنوری 2020 میں قتل کے معاملے سے جڑی ہوئی ہے۔ بعض لوگ توقع کر رہے تھے کہ ایران جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے عملی اقدامات کرے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ کیونکہ جنرل سلیمانی کو عراق میں ہلاک کر کے امریکہ نے ایران کا غیرمعمولی نقصان کیا تھا۔

اردن میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کو جنرل سلیمانی کے قتل کے بدلے کے قریب تر بنا کر پیش کر سکتا ہے۔ لیکن ابھی تک کوئی ایسی براہ راست بات سامنے نہیں آئی ہے۔

امریکہ اور ایران جنگ تباہ کن ہو گی

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ نہ صرف فریقین کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو گی۔ تاہم اس کا منطقی انجام امریکہ کے لیے زیادہ سنگین ہو گا۔ براڈسکی کا کہنا ہے ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ نہیں کرنا چاہتا۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کی روایتی جنگی قوت امریکی جنگی قوت کے مقابلے کی نہیں ہے۔ اس لیے وہ امریکہ سے جنگ ہار جائے گا۔

منگل کے روز عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کتائب کا سامنے آنے والا بیان اہم ہے۔ 'کتائب' کا کہنا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں پر اپنے حملے روک دے گا۔ اس سے چند گھنٹے پہلے امریکی پینٹاگون نے اردن میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے کہا تھا کہ اس میں کتائب کے قدموں کے نشان ملتے ہیں اور ہم جواب دینے کا عزم رکھتے ہیں۔

امریکی وائٹ ہاؤس اس سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ اردن میں حملے کی ذمہ دار عراق میں موجود اسلامی مزاحمتی تحریک ہے۔ کتائب کے اس تازہ بیان نے خطے میں ایرانی پاسداران انقلاب پر امریکہ کی امکانی کارروائیوں سے متعلق ایرانی تشویش نمایاں کر دی ہے۔

امریکہ کے خلاف ایرانی سوچ میں جنگ سے ہچکچاہٹ کا ایک سبب سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی عمر رسیدگی بھی ہے کہ وہ اس وقت 84 سال کے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے اپنی جانشینی کے معاملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سپریم لیڈر اپنے ساتھ نظریاتی لوگوں کو مستحکم کرنے کی کوشش میں ہیں جیسا کہ آج کے ایران میں حکومت کی تینوں شاخوں یعنی ایرانی صدر، عدلیہ اور پارلیمان پر انہی نظریاتی لوگوں کا غلبہ ہے۔

براڈسکی کے مطابق علی خامنہ ای ایک ایسا جانشین چاہتے ہیں جو ان کی میراث کی حفاظت کرے اور اسلامی جمہوریہ کو محفوظ رکھ سکے۔ اس کے لیے ایک ہموار جانشینی ضروری ہے۔ جبکہ امریکہ کے ساتھ براہ راست جنگ اس خواہش اور کوشش کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔ البتہ خامنہ ای اپنے حمایت یافتہ گروپوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ اپنے تنازعے کو جاری رکھنے کو پسند کریں گے۔

امریکہ کے ساتھ کھلی جنگ کی صورت میں ایرانی رجیم کے لیے ایک اہم سوال اکثریت کی حمایت کا بھی ہو سکتا ہے۔ سنگین معاشی حالات اور سیاسی جبر کے ماحول کی سماجی اقدار کی وجہ سے حکومت کو کافی حد تک عدم اطمینان کا سامنا ہے۔ ایرانی حکومت سمجھتی ہے کہ اس کے پاس کافی سماجی حمایت نہیں ہے۔ یہ ایک جائز اور مقبول حکومت کے طور پر پہچانی نہیں جاتی۔ ایرانی عوام میں وسیع پیمانے پر اس کے بارے میں عدم اطمینان ہے۔ اس لیے گولکر کا مزید کہنا ہے کہ جنگ اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ براڈسکی کے مطابق ایران کے اندر امریکی حملے کی صورت میں ایرانی حکومت کو فیس سیونگ کی حد تک جوابی کارروائی کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ لیکن کشیدگی بڑھانے سے بچنے کے لیے احتیاط بھی کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں