ایک سعودی خاتون نے ڈیڑھ سو سال پرانا چمڑے کا ٹکڑا کیوں سنھبال رکھا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوب مغربی سعودی عرب کے جازان کے علاقے میں الحشر پہاڑوں سے تعلق رکھنے والی ایک سعودی خاتون شہری نے ایک پرانا چمڑا 50,000 ریال میں بھی فروخت کرنے سے انکار کردیا۔یہ چمڑہ کئی دہائیوں پہلے بارش اور دھوپ سے گھروں کو بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ یہ چمڑا اس کے لیے بہت قیمتی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ساترہ الحریصی نے کہا کہ چمڑے کا یہ ٹکڑا ان پرانے اور ورثے کے ٹکڑوں میں سے ایک ہے جسے انہوں نے سنھبال رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس چمڑے کی عمر تقریباً 150 سال تک پہنچ سکتی ہے۔ اسے ان کے والد، دادا اور ان کے والد دھوپ اور بارش سے بچانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چمڑے کے بنے ہوئے ٹکڑوں کو "نطع" کہا جاتا ہے۔ یہ بھیڑ کی کھال سے بنے ہوتے ہیں۔انہیں ایک ساتھ رکھا جاتا ہے، ان کو بنانے والی عورت ایک خاص انداز میں، گول یا مربع شکل میں تیار کرتئ ہے۔ اسے گھرکی چھت پر رکھا جاتا ہے اوریہ چمڑا میرے لیے انتہائی قیمتی دہے۔

الحریصی نے بتایا کہ یہ ٹکڑا بھیڑ کی کھال کے 28 ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔ البتہ اس کے کنارے پر جوڑے گئے ٹکڑے ان کے علاوہ ہیں۔ اسے اس وقت تک رکھاجاتا ہے جب تک کہ یہ ٹکڑا متوازن نہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ جوڑے گئے ٹکڑوں کو ’سبائک‘ کہا جاتا ہے۔ ہر سبائک 6 ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ٹکڑے کا ایک نام اور ایک مقصد ہوتا ہے۔

چمڑے کی صنعت

الحریصی نے کہا کہ ماضی میں عورتیں بھیڑ کی کھال کا یہ ٹکڑا بناتی تھیں، اس کی کھال اتارنے کے بعد وہ چمڑے کو رنگ دیتیں۔ اسے تیار کرتیں۔ ان ٹکڑوں کو ایک دوسرے کے برابر اور متوازن بنایا جاتا۔ پھرانہیں ایک خاص شکل میں جوڑاجاتا۔

ان ٹکڑوں کو سلائی کرنے کا طریقہ یہ عمل تھکا دینے والا ہے۔ اسے مکمل کرنے میں کافی محنت اور وقت صرف ہوتا ہے اس میں چھ ماہ سے ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔

الحریصی نے مزید کہا کہ مجھے ریاض میں بین الاقوامی نمائش میں شرکت کے دوران اس چمڑے کو فروخت کرنے کے لیے پچاس ہزار ریال کی پیشکش کی گئی تھی۔ میں نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا، میں اسے اس لیے اپنے پاس رکھے ہوئے ہوں تاکہ اس سے اس تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکے جس سے ہماری ماؤں نے استعمال کرکے اسے فایدہ اٹھایا۔ یہ میرے لیے ایک قیمتی چیز ہے اور میں نے اسے اپنی والدہ سے وراثت میں حاصل کیا ہے۔انہوں نےمیری دادی سے وراثت میں حاصل کیا تھا۔اس لیے میں نے اسے محفوظ کررکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں