فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ نسل کشی کیس کی حمایت پر اسرائیلی قانون ساز کو ممکنہ ملک بدری کا سامنا

پارلیمان ووٹ کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے منگل کے روز بائیں بازو کے ایک قانون ساز کو کنیسٹ سے خارج کر دینے کی تحریک کی حمایت کی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے سامنے جنوبی افریقہ کے مقدمے کی حمایت کی جس میں اسرائیل پر غزہ کی جنگ میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔

کمیونسٹ ہداش پارٹی جو بائیں بازو کی عرب طال پارٹی کے ساتھ مشترکہ فہرست میں ہے، سے تعلق رکھنے والے اوفر کاسف کے مواخذے کے لیے ووٹنگ اب کنیسٹ کی مکمل نشست میں منعقد کی جائے گی جہاں اسے منظوری کے لیے 120 میں سے 90 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ ووٹنگ کی تاریخ طے نہیں ہوئی۔

گذشتہ ہفتے اپنے فیصلے میں آئی سی جے نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی کارروائیاں روکنے کے لیے عمل کرے لیکن فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے باز رہا۔

جنوبی افریقہ کے معاملے پر اسرائیل میں سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل کا اظہار کیا گیا اور کاسف کو اس معاملے کی حمایت پر غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

حتیٰ کہ اگر کنیسٹ کاسف کے اخراج کی منظوری دے دے تب بھی سپریم کورٹ ووٹ کو کالعدم کر سکتی ہے لیکن اس کیس نے نسل کشی کے الزامات پر گہری تلخی کو نمایاں کیا جسے اسرائیلی صدر اسحٰق ہرتصوغ نے "ظالمانہ اور مضحکہ خیز" قرار دیا۔

بدھ کے روز کنیسٹ ہاؤس کمیٹی کی ایک دو روزہ شعلہ بیاں نشست میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکمراں لیکوڈ پارٹی کے اراکین نے کاسف کے حامیوں کے ساتھ بدتمیزی کی جنہوں نے اس تحریک کو جمہوریت مخالف قرار دیا۔

رائٹرز کے رابطہ کرنے پر کاسف نے انٹرویو دینے سے انکار کر دیا لیکن ان کی پارٹی کے چیئرمین کے ایک بیان میں نیتن یاہو کی حکومت پر "بغاوت" کی طرف قدم اٹھانے کا الزام لگایا گیا۔

اس ماہ بائیں بازو کے خبری ادارے ڈیموکریسی ناؤ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کاسف نے کہا کہ وہ دعویٰ جھوٹ ہے کہ انہوں نے حماس کے اسرائیل پر حملے کی حمایت کی جس کی (دراصل) انہوں نے "قتلِ عام" کے طور پر مذمت کی تھی لیکن کہا کہ وہ غزہ اور نیتن یاہو کی حکومت میں جنگ کی مخالفت کرتے ہیں۔

سروے سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی عوام میں جنگ کی حمایت زیادہ ہے جو غزہ کی پٹی سے حماس کے زیرِ قیادت مزحمت کاروں کے سرحد پار حملے پر شدید صدمے کا شکار ہے جس میں اسرائیل کی بیان کردہ تعداد کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔

غزہ پر مسلسل بمباری اور زمینی حملے کی صورت میں اسرائیل کے اپنے ردِعمل پر دنیا بھر میں اسرائیل پر شدید تنقید کی گئی ہے جس میں غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق تقریباً 27,000 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور اس کے قریبی اتحادی امریکہ سے بھی تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں