35 دنوں میں 35 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی،غزہ میں ممکنہ جنگ بندی میں اور کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے اور غزہ کی پٹی میں جنگ کو روکنے کے حوالے سے بین الاقوامی مذاکرات کاروں کے بیانات میں معلومات اور تفصیلات ابھی تک متضاد ہیں۔

اس حساس فائل سے متعلقہ فریقین کے درمیان مشاورت اور بات چیت جاری ہے۔ مصر، قطر اور امریکی مذاکرات کاروں کی طرف سے نقطہ نظر کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ نئے معاہدے کے بارے میں کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

خواتین اور بزرگ قیدی

اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل ’12‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کی طرف سے اسرائیلی جنگی کونسل کو پیش کردہ اصولوں کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے ممکنہ معاہدے میں زندہ بچ جانے والے 35 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے، جن میں خواتین، زخمی اور بوڑھے قیدی شامل ہیں۔ 35 دن تک جاری رہنے والی جنگ بندی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔ فلسطینی ہر روز ایک قیدی کو رہا کریں گے۔

اس تجویز میں 35 دنوں کے بعد مزید ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی میں توسیع کا امکان بھی شامل ہے تاکہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے امکان پر بات چیت کی جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں نوجوانوں کی رہائی شامل ہے۔ حماس نے انہیں اسرائیلی فوجی قرار دیا ہے۔

فلسطینی قیدیوں کی رہائی
فلسطینی قیدیوں کی رہائی

ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی فریق کے لیے "فوج داری کیسز میں سزا کاٹنے والے قیدیوں" کی تعداد کے بجائے ان کی نوعیت کی زیادہ اہمیت ہے۔

کوئی بھی ڈیل جس میں اسرائیلیوں کی ہلاکتوں میں سزا پانے والوں کی بڑی تعداد میں رہائی بھی شامل اسرائیل میں عوام اور سیاست دانوں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہوگا۔

خیال رہے کہ اس وقت تک رہا کیے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

3 اہم نام

عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب حماس اس بات پر اصرار کرتی نظر آتی ہے کہ اگلی ڈیل میں تین معروف فلسطینی قیدی مروان برغوثی، احمد سعدات اور عبداللہ برغوثی شامل ہیں۔

خاص طور پر چونکہ یہ بڑے نام برغوثی کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کا چہرہ بدلنے کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔انہیں مغربی کنارے میں کیے گئے آخری رائے شماری میں فلسطینی صدر محمود عباس کے بعد اتھارٹی کی سربراہی کے لیے ترجیحی امیدوار تصور کیا گیا تھا۔

دیوار پر بنا مروان الرغوثی کا ایک خاکہ
دیوار پر بنا مروان الرغوثی کا ایک خاکہ

مروان برغوثی کو اسرائیل نے 2002ء میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر پانچ اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس میں انہیں پانچ بار عمر قید اور 40 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دوسری اہم رنما احمد سعدات پاپولر فرنٹ کے سیکرٹری جنرل ہیں، جنہوں نے 2001 میں اسرائیلی وزیر ریحاام زائی کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیل نے اس سے قبل شالیت معاہدے (2011 میں قیدیوں کا تبادلہ) کے تحت انہیں رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

دریں اثنا حماس کے رکن عبداللہ برغوثی کو مغربی کنارے میں تنظیم کے عسکری ونگ کے رہ نماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انہیں 67 بار عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔

ابھی تک کسی بھی فریق نے حال ہی میں سامنے آنے والی ان نئی تفصیلات پر اپناموقف نہیں دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ اتوار کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اسرائیل، امریکہ، مصر اور قطر کی شرکت سے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ کو روکنے کے لیے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا تھا۔

100 قیدیوں کی رہائی

گذشتہ نومبر (2023ء) کے آخر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اس جنگ بندی میں تقریباً ایک سو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی تھی۔ ان اسرائیلیوں کو حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیلی بسیتوں پر حملے کے دوران یرغمال بنا لیا تھا۔

اس دن حماس نے انہیں اسرائیل کی جنگ بندی اور 240 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا کیا۔

اس وقت بھی غزہ میں تقریبا 132 اسرائیلی قید ہیں میں سے 28 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہےوہ بمباری میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں