آبادکاروں کے حوالے سے "غیر معمولی اقدامات" کی ضرورت نہیں : اسرائیل کا امریکہ کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو، اسرائیل نے مغربی کنارے کے آباد کاروں کی اکثریت کو "قانون کی پاسداری کرنے والے" بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو قانون کی پابندی نہیں کرتے۔ اس بیان سے امریکہ کی جانب سے ان آباد کاروں پر پابندیاں سخت کرنے کے معاملے پر عدم اطمینان ظاہر ہوتا ہے، جن پر فلسطینیوں پر حملوں کا الزام ہے۔

بائیڈن اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اسرائیل ہر جگہ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور اس لیے اس معاملے پر غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں ہے''۔


"ممکن نہیں"

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل جمعرات کو امریکہ نے متعدد اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کی تھیں جن پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کا الزام ہے۔ صدر جو بائیڈن کے مطابق، تشدد کی سطح "ناقابل برداشت" ہو گئی ہے۔

بائیڈن نے مغربی کنارے میں حملوں کے بعد امریکی اقدامات پر مشتمل ایک حکم نامہ جاری کیا، جہاں غزہ کی پٹی میں حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سے آباد کاروں نے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

7 اکتوبر سے

قابل ذکر ہے کہ ، غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے حوالے سے پچھلے کچھ مہینوں میں تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد سے یہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔

دسمبر میں، امریکہ نے مغربی کنارے میں تشدد میں ملوث افراد کو امریکہ داخلے کے ویزے دینے پر پابندی لگانا شروع کر دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں