مشرق وسطیٰ

امیدیں ٹوٹنے لگیں: حماس واسرائیل کے درمیان قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ بند گلی میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق متوقع معاہدے کے بارے میں گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران جو امید افزا فضا دیکھنے میں آئی تھی، ایسا لگتا ہے کہ وہ اب وہ امیدیں ٹوٹ رہی ہیں۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے کی راہ میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ’’قطری پرامیدی‘‘ قبل از وقت تھی۔

براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق انسانی بنیادوں پر رہائی کے پہلے مرحلے میں مریض اور عمر رسیدہ 35 یرغمالی رہا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد سات دن کے مزید مذاکرات کے اختتام پر غزہ میں قید اسرائیلی فوجیوں اور ریزرو ارکان کو رہا کیا جانا تھا۔

دو رکاوٹیں

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق رہائی کے پہلے مرحلے کے حوالے سے دو رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔ غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ السنوار کی جانب سے سامنے لائی جانے والی ایک رکاوٹ یہ ہے کہ انہیں اب تک اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ملی کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد اسرائیل ٖغزہ کے خلاف دوبارہ جنگ شروع نہیں کرے گا۔

فلسطینی اسیران : اے ایف پی
فلسطینی اسیران : اے ایف پی

نیز پہلے مرحلے میں 35 قیدیوں کی رہائی سے متعلق طریقہ کار کے بارے میں تنازعہ جوں کا توں برقرار ہے۔ اس بارے میں ابہمام ابھی دور ہونا باقی ہے کی جنگ بندی کی مدت کے دوران آیا ہر روز ایک قیدی رہا ہو گا یا پھر سات قیدی ہر ہفتے رہا ہوا کریں گے۔ نیز ان قیدیوں کو کیسے اور کہاں رہا کیا جائے گا؟

اسرائیلی میڈیا کے مطابق دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ جنگ بندی کی 35 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد کیا صورت حال ہو گی، اس بارے میں ابھی تک تفیصلات طے نہیں کی جا سکیں۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق تجویز پر حماس نے’’اصولی طور پر مثبت رضامندی‘‘ ظاہر کی تھی۔

تاہم دوسری جانب پولٹ بیورو حماس کے رکن محمد نزال نے اس بات کی تردید کی تھی کہ تنظیم نے ابھی تک چند روز قبل پیرس کانفرنس کے موقع پر قیدیوں کی رہائی سے متعلق تجویز کے بارے میں کسی قسم کی مواقفت کا اظہار نہیں کیا ہے۔

’’العربیہ‘‘ کو خصوصی بیان میں محمد نزال کا کہنا تھا کہ حماس کی اندرون اور بیرون فلسطین قیادت اس ضمن میں مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں