ایران جنگ میں پہلے نہیں کرے گا، حملہ ہوا تو بھر پور جواب دے گا: ابراہیم رئیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کہا ہے کہ ایران جنگ میں ہہل نہیں کرے گا مگر کسی نے بھی حملہ کیا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ابراہیم رئیسی کا یہ بیان اس جاری مفروضاتی بحث کے کئی روز بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا جارہا تھا کہ امریکہ اردن میں ہلاک تین فوجیوں کا بدلہ لینے کے لئے ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

یاد رہے پچھلے ہفتے کے روز امریکہ کے تین فوجیوں کو امریکی فوجی اڈے پر حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔اس حملے کی ذمہ داری ایران پر عاید کی گئی کہ حملہ اس ملیشیا نے حملہ کیا جو ایرانی حمایت یافتہ ہے اور امریکہ کے علاوہ اسرائیلی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش میں رہتی ہے۔

امریکی ٹی وی چینل ' سی بی ایس' کے مطابق امریکہ نے عراق اور شام میں جوابا کئی دن تک حملے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ حملے مختلف اہداف ہوں گے۔ جیسا کہ اس سے قبل یمن مین حوثی مراکز پر گیارہ جنوری کو کئے تھے۔

ان متوقع امریکی حملے ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے مراکز کے علاوہ عراق و شام میں براہ راست ایرانی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ایرانی شخصیات اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

تاہم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ایران جنگ شروع نہیں کرنا چاہے گا۔ مگر کسی نے بھی حملہ کیا تو بھر پور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

صدر رئیسی نے ٹی وی پر دکھائی گئی تقریر میں کہا ' جب امریکی ہمارے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے تھے تو اس وقت وہ کہتے تھے کہ فوجی آپشن بھی میز پر موجود ہے،سو اب کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ کی نیت نہیں ہے۔'

ایرانی صدر نے کہا ' ایرانی فوجی قوت خطے میں کبھی کسی ملک کے لئے خطرے کا باعث نہیں بنی ہے۔ وہ علاقے کے ملکوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ خطے کے ملک ہم پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کا اندازہ یہ ہے کہ اردن میں جس ڈرون حملے سے امریکہ کے تین فوجی مارے گئے ہیں ایررانی ساختہ تھا۔ یاد رہے تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے علاوہ چالیس زخمی بھی ہوئے تھے۔

عراق میں امریکہ کے 2500 فوجی تعینات ہیں جبکہ شام میں 900 امریکی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔ جبکہ شام سے ایران نے اپنی پاسداران انقلاب کور کے افسروں کو واپس بلانے کی خبریں آرہی ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں