ایک ہفتے میں دوسرا حملہ، دمشق میں مارے گئے ایرانی اہلکار کی تصویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ہفتے کے اندر دوسرے حملے میں اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے آس پاس کے علاقوں میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کم از کم تین ایران نواز عسکریت پسند (ایک ایرانی، ایک عراقی اور ایک نامعلوم تیسرا) ہلاک ہوئے۔

جبکہ نیم سرکاری ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کے مشیر سعید علیدادی کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تصویر شائع کی ہے۔

"مزار کا محافظ"

خبر رساں ایجنسی نے علیدادی کو شام میں "مزارِ سیدہ زینب" کا گارڈ قرار دیا۔

شام کے ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے "تقریباً صبح چار بج کربیس منٹ پر مقبوضہ گولان کی سمت سے فضائی حملے شروع کیے، جن میں دارالحکومت کے جنوب میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا"۔

آبزرویٹری نےبتایا کہ "عقرباالسیدہ زینب روڈ پر لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے ایک فارم کو نشانہ بنایا گیا"۔

انسانی حقوق گروپ نےکہا کہ دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سڑک پر الغزلانیہ قصبے کے قرب و جوار میں اس جگہ کو بھی نشانہ بنایا گیا جسے پہلے خالی کرایا گیا تھا۔

دوسری جانب’اےایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ایرانی اثر و رسوخ کا علاقہ

یہ حملے اس ہفتے اسی علاقے میں حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کے ایک اڈے کو نشانہ بنانے والے ایک اور حملے کے بعد کیے گئے، جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سیدہ زینب کا علاقہ تہران کے وفادار گروہوں کے لیے وسیع اثر و رسوخ کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

اس میں حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کے کئی ہیڈ کوارٹر بھی شامل ہیں۔

سنہ 2011ء میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سےاسرائیل نے سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں بنیادی طور پر لبنانی حزب اللہ سمیت ایرانی ملیشیاؤں کے ساتھ ساتھ شامی فوج کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں