برکس میں شمولیت کی دعوت ، ابھی جواب نہیں دیا: سعودی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے ابھی تک ' برکس' میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے سے متعلق 'برکس' قیادت کو جواب نہیں دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس امر کا اظہار سعودی ذرائع نے جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ نیلڈی پینڈور کی طرف سے یہ کہے جانے ' کہ سعودی عرب ' برکس' میں شامل ہو چکا ہے ' کے بعد بتائی ہے۔

سعودی عرب کے اس معاملے سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے ' ابھی تک یہ معاملہ زیر غور ہے اور سعودی عرب نے ' برکس' قیادت کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ خیال رہے' برکس ' نے سعودی عرب کواپنا حصہ بننے کی دعوت پچھلے سال ماہ اگست میں دی تھی۔

لازم تھا کہ سعودی عرب اس دعوت کو قبول کرنے کا فیصلہ دسمبر 2023 کے اواخر تک کرے۔ مگراس مقررہ تاریخ کے بعد مزید ماہ گذر چکا ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب نے اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔

سعودی ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ ابھی تک مملکت میں زیرغور رکھا گیا ہے۔ پچھلے سال ماہ اگست میں ہی ایران، متحدہ عرب امارات ، مصر اور ایتھوپیا کو بھی دعوت دی تھی۔ ان سب سے کہا گیا تھا کہ یکم جنوری تک شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن سعودی عرب نے ابھی تک اس دعوت کو قبول کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اس بین الاقوامی فورم ' برکس ' میں جو ممالک پہلے سے ممبر ہیں ان میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک کثیر ملکی اقتصادی تعاون کا فورم ہے مگر مستقبل میں یہ گلوبل ساؤتھ کے لیے کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گلوبل ساؤتھ کے رکن ممالک کے خیال میں وہ از کار رفتہ قسم کے ورلڈ آرڈر کو ختم کر کے اس کی جگہ نئی سوچ پر مبنی نئے نظام کو متعارف کرانا اصل ہدف ۔' ماہ جنوری کے آغاز میں سعودی وزیر معیشت نے کہا تھا ' سعودی عرب نے ابھی تک اس میں شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں