سعودی عرب کی عالمی برادری کے ساتھ مل کر خشک سالی سےنمٹنے کی مساعی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ہے کہ آئندہ دسمبرمیں "COP16" کے لیے سعودی عرب کی میزبانی کے معاہدے پر دستخط کے موقع پر زمین کے تحفظ اور صحرا بندی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کانفرنس کی اہمیت اس لیے سامنے آتی ہے کہ اس کا تعلق زمین کی بحالی سے ہے۔

وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ99 فی صد خوراک زمین سے آتی ہے، جبکہ نباتات دُنیا میں تقریباً 75 تازہ پانی کا ذخیرہ اور جنگلات اور چراگاہوں میں موجود پودوں کا احاطہ حیاتیاتی تنوع کا تقریباً 90 فی صد حصہ ہے۔

197 ممالک کے درمیان تعاون

ریاض کانفرنس "COP16" کی میزبانی کرتے ہوئے سعودی عرب ان 197 ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کام کررہا ہے جنہوں نے صحرا بندی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے ہیں، اور لاکھوں ہیکٹر تباہ شدہ زمینوں کی بحالی کے لیے موثر حل تلاش کرنے کے لیے صلاحیتوں کو متحرک کیا ہے۔

رپورٹس اور مطالعہ

بین الاقوامی رپورٹس اورمطالعات کے مطابق دنیا بھرمیں تقریباً تین ارب لوگ زمینی انحطاط سے متاثر ہیں۔ اس تنزلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 6 ٹریلین ڈالرلگایا گیا ہے۔ مختلف اقسام کی زمینوں کو محفوظ رکھنے اوران کی تنزلی کو کم کرنے کے لیے دُنیا کے ممالک کو متحرک کرنے میں سعودی عرب گہری دلچسپی دکھا رہا ہے۔

ماحولیات، پانی اور زراعت کے نظام کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں نے 90 ہزارہیکٹر سے زیادہ اراضی کو محفوظ کرنے اور پودوں کی نشوونما کے لیے 50 ملین سے زائد درختوں کی شجرکاری کو مکمل کرنے کے لیے گذشتہ سال کے دوران بیداری کے بہت سے اقدامات شروع کرنے کے ساتھ ساتھ اور ایسے پروگرام جنہوں نے معاشرے کے تمام طبقات میں ماحولیاتی بیداری کے تناسب کوبڑھانے میں کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ مملکت میں دھول کے طوفان کا فیصد 10فی صد ریکارڈ کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے کنونشن ٹوکمبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی زمینوں کا چالیس فی صد حصہ تنزلی کا شکار ہے۔ اسے نصف انسانیت متاثر ہو رہی ہے اور 2030ء تک 1.5 بلین ہیکٹر تباہ شدہ زمینوں کو بحال کرنے کا ہدف ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں