عراقی مسلح دھڑوں کے وفادار ایک چینل نے اپنی نشریات کیوں روکیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی جانب سے عراق اور شام میں امریکی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں معطل کرنے کے اعلان کے دو دن بعد ایک ایران نواز چینل نے ایک عجیب تبصرہ کیا ہے۔

"صابرین" چینل جو عراق میں مسلح دھڑوں سے قربت کے لیے جانا جاتا ہے نے جمعرات کو ٹیلی گرام پر ایک تبصرے میں اعلان کیا کہ وہ تا اطلاع ثانی اپنی نشریات روک رہا ہے۔

وجہ نامعلوم

اگرچہ چینل کی نشریات روکنے کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہیں، لیکن اس تبصرے نے سوشل میڈیا پر تنقید کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔

’ایکس‘ پلیٹ فارم پر متعدد صارفین نے اس عجیب فیصلے کا مذاق اڑایا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ چینل اس وقت بند کیا گیا ہے جب امریکہ نے تہران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیا کے خلاف سخت حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ نے عراقی حزب اللہ بریگیڈز کو اردن کی سرحد پر ٹاور 22 نامی اڈے پر حملے کے بعد نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

کچھ صارفین نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی فوجی وردی میں ایک "جعلی" تصویر سامنے آئی جو ملوث افراد کو مارنے کی تیاری کا اشارہ تھا۔ اس کے بعد چینل تیزی سے پیچھے ہٹ گیا!۔

ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ "مزاحمت کے محور سے اجتماعی فرارہے‘‘۔ ان کا اشارہ عراقی دھڑوں کی طرف تھا جو چند ماہ قبل "عراق میں اسلامی مزاحمت کے محور" کے نام سے متحد ہوئے تھے۔

یہ پیش رفت کتائب حزب اللہ کی جانب سے عراق اور شام دونوں میں امریکی اڈوں کے خلاف اپنے حملے روکنے کے دو دن بعد سامنے آیا ہے۔

اُردن کی سرحد پرامریکی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد ایران نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں