عراق کی ایران نواز النجباء تحریک کا امریکی فوجیوں پر حملے جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے حمایت یافتہ عراقی مسلح گروپ حركة النجباء نے جمعہ کے روز کہا وہ غزہ کی جنگ ختم ہونے اور امریکی افواج کے عراق سے انخلاء تک خطے میں امریکی افواج پر حملے جاری رکھے گا۔ اس سے چند دن پہلے ایران کے حمایت یافتہ ایک اور بڑے گروپ نے کہا تھا کہ وہ امریکی فوج پر حملوں کو معطل کر رہا ہے۔

عراق کی کتائب حزب اللہ نے منگل کے روز کہا کہ وہ امریکی افواج پر حملوں کو روک دے گا۔ ان کا یہ فیصلہ شام کی سرحد کے قریب اردن میں ڈرون حملے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا جس کا الزام واشنگٹن نے ایران کے حمایت یافتہ مزاحمت کاروں پر لگایا تھا۔

واشنگٹن نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

حركة النجباء کے رہنما اکرم الکعبی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کتائب حزب اللہ کے فیصلے کو سمجھتے ہیں لیکن حركة النجباء اور عراقی اسلامی مزاحمت (آئی آر آئی) - سخت گیر شیعہ ملیشیا کا ایک گروپ - کے دیگر حصے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

ایران کے نام نہاد "محورِ مزاحمت" کا حصہ، چھتری گروپ نے غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے عراق اور شام میں امریکی افواج پر 150 سے زیادہ حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران براہِ راست ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔

عراقی حکام کو خدشہ ہے کہ اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر واشنگٹن کا ردِعمل شدید ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی تہران نے کتائب حزب اللہ کو دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا جس کی بنا پر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا، امید ہے کہ اس سے کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے جمعہ کے روز کہا کہ ان کا ملک جنگ شروع نہیں کرے گا لیکن جو بھی اسے دھمکانے کی کوشش کرے گا اسے "سخت جواب" دیا جائے گا۔

2020 میں امریکہ نے ایران کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور کتائب حزب اللہ کے رہنما ابو مہدی المہندس کو بغداد کے ہوائی اڈے پر ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔

یہ حملہ امریکہ کی جانب سے کتائب حزب اللہ کو ایک امریکی ٹھیکے دار کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے چند دن بعد ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں