فلسطین اسرائیل تنازع

مغربی کنارے کے 4 متشدد یہودی آبادکاروں کے خلاف امریکی پابندیوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکہ نے جمعرات کے روز انتہا پسند یہودی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ یہودی آبادکاروں کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے اس طرح کی پابندیاں لگانے کا یہ واقعہ عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتا۔

پابندیوں سے متعلق امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے اس سلسے میں ایک حکم جاری کرنے کا اقدام کیا تھا۔ تاکہ مغربی کنارے میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیوں اور حملوں کو روکنے کے اقدامات کیے جاسکیں۔ مغربی کنارے میں یہودی آبادکار فلسطینیوں پر اس طرح کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ غزہ میں اسرائیلی جنگی مہم اس کے علاوہ ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان امریکی پابندیوں کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ 'مغربی کنارے میں امریکی پابندیوں کی کوئی گنجائش اور جواز نہیں ہے۔ اسرائیل ہر قانون شکن کے خلاف خؤد اقدامات کرتا ہے۔ اس لیے امریکی پابندیوں کا اس سلسلے میں کوئی محل نہیں ہے کہ وہ اس طرح کے غیرمعمولی اقدامات کرے۔'

امریکی حکام کے مطابق انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کا یہ اطلاق پہلے مرحلے پر 4 افراد کے خلاف ہوگا۔ ان کے امریکہ میں موجود اثاثہ جات کو بلاک کر دیا جائے گا اور وہ امریکیوں کے ساتھ مالی لین دین نہیں کر سکیں گے۔ نیز ان کے لیے امریکی ویزوں کے اجراء پر پابندی ہوگی۔ تاہم صرف 4 یہودی آبادکاروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان ابتدائی طور پر محض ایک علامتی کارروائی نظر آتی ہے۔

واضح رہے مغربی کنارے میں لاکھوں کی تعداد میں یہودی آبادکار موجود ہیں۔ جنہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق ناجائز یہودی بستیوں میں رکھا گیا ہے۔ نیتن یاہو حکومت میں موجود انتہا پسند جماعتوں کے وزراء ان ناجائز یہودی بستیوں میں تیز رفتار اضافے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔

آئے روز یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ 7 اکتوبر کے بعد ان حملوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں 300 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ فلسطینیوں کی ان اموات میں یہودی آبادکار حملہ آوروں کا بھی حصہ ہے۔

مغربی کنارے میں 4 یہودی آباد کاروں پر پابندیوں کا یہ فیصلہ اس وقت کرنا پڑا جب صدر جوبائیڈن نے امریکی ریاست مشی گن کا دورہ کیا اور انہیں وہاں کی عرب امیریکن آبادی کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ جو اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی کے بھی ناقد ہیں۔ مشی گن ریاست کے شہر ڈیٹراوٹ کے میئر نے بھی امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

مشی گن ریاست کا شہر ڈیٹراوٹ ان 70 امریکی شہروں میں شامل ہے جن میں ایسی قراردادیں منظور کی گئی ہیں جو غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی ہیں اور جوبائیڈن انتظامیہ کی پالیسی کے برعamerکس ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر جوبائیڈن اس سے قبل اسرائیل سے بار بار مغربی کنارے کی سورتحال پر بات کر چکے ہیں اور یہودی آبادکاروں کی طرف سے پرتشدد واقعات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ تازہ اقدام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ حکام کے مطابق مغربی کنارے میں امن اور استحکام اسرائیل کے علاوہ پورے خطے میں استحکام اور امن کے لیے ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں