خیراتی کام کےلیے مکہ سےمدینہ کاسفر طےکرنے والےلندن کےایک سائیکل کلب کےبانی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

مشرقی لندن میں واقع ایک سائیکلنگ کلب کے اراکین جو 10 سال سے زیادہ عرصے سے سواری کے مشترکہ شوق کے تحت ہفتہ وار ملاقات کرتے ہیں، نے بدھ کی رات ایک خیراتی مقصد کے لیے مکہ سے مدینہ تک 500 کلومیٹر (300 میل) کی سواری مکمل کی۔

سواری کے اختتام پر العربیہ سے بات کرتے ہوئے 100 رکنی غیر منافع بخش کلب کے بانی شمس العابدین نے کہا کہ تین دن کے تھکا دینے والے لیکن فائدہ مند سفر سے حاصل ہونے والی رقم ایک برطانوی خیراتی تنظیم کو جائے گی جو غریب بچوں کے دل کے مفت آپریشن کے اقدامات کرتی ہے۔

مہارت کی سطح کی بنیاد پر دو ٹیموں میں تقسیم 42 سواروں کے گروپ نے مملکت کی صحرائی قطاروں والی سڑکوں پر سفر شروع کیا جو دونوں شہروں کے درمیان ان کا تیسرا سفر تھا اور کامیابی کے ساتھ 223,000 امریکی ڈالر (175,000پاؤنڈ) سے زیادہ جمع کیا۔

عابدین کے ایچ اینڈ کے سائیکل کلب نے 2021 میں مکہ تا مدینہ سفر کا آغاز کیا اور اسے دو شہروں کے درمیان پیغمبرِ اسلام کے سفر کی تعظیم میں 'ہجرہ سواری' کا نام دیا۔

ارکان سواری سے کچھ دن پہلے بحیرۂ احمر کے شہر جدہ پہنچے، عمرہ کی اسلامی فریضہ ادا کیا، طائف کا دورہ کیا اور پھر آگے کے سفر کی تیاری میں تین دن گذارے۔

پیر کے اوائل میں صبح 3:00 بجے سوار مکہ سے شاہ عبداللہ اکنامک سٹی (کے اے ای سی) کی طرف روانہ ہوئے جو تقریباً 170 کلومیٹر دور ہے۔ عابدین نے کہا کہ ٹریک قدرے ڈھلان کی طرف اور سائیکل سواری کے لیے آسان تھا لیکن تھوڑی گرمی تھی۔ ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا جب 120 کلومیٹر کے نشان کے بعد ٹیمیں ہوا کے مخالف سمت میں چلی گئیں جس کے اثرات کھلے صحرا میں بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے 3:30 بجے کے قریب اپنے ریزورٹ میں سواری کا اختتام کیا۔ اور آرام کرنے لگے۔

'یہ واقعی نہایت مشکل تھا'

دوسرے دن ٹیموں نے صبح 9 بجے کے اے ای سی سے اپنا سفر شروع کیا اور ایک اور قصبے بدر کی طرف روانہ ہوئے جو مسلمانوں کے لیے تاریخی مذہبی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں مسلمانوں اور قریشِ مکہ کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔

عابدین نے بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ 184 کلومیٹر کا سفر بیان کرتے ہوئے کہا، "یہ واقعی، واقعی مشکل تھا۔" عابدین کے اندازوں کے مطابق انہوں نے 140 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک 28 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں کا سامنا کیاجس نے سواروں کو تھکا دیا اور ان کے جسموں کو آخری حد تک پہنچا دیا۔

بانی نے وضاحت کی، "کوئی جائے پناہ نہیں تھی [بادِ مخالف سے] کیونکہ جب ہم خوبصورت ملک برطانیہ میں سائیکل چلاتے ہیں تو چند میل کے بعد خود کو حقیقی مہلت دیتے ہیں اگر وہاں بادِ مخالف ہو تو۔ لیکن یہاں 80 میل تک بس ایک سیدھی سڑک ہی تھی اس لیے بادِ مخالف کہیں نہیں جا رہی تھی۔" اور مزید کہا کہ اس مشکل کا فائدہ یہ تھا کہ گرمی صرف "ہلکی" تھی تقریباً 26 ڈگری سیلسیس۔

اضافی مزاحمت کی وجہ سے ٹیمیں سفر شروع ہونے کے 11 گھنٹے بعد رات 8 بجے بدر پہنچ گئیں۔ مزید برآں وسیع، خالی اور یکسانیت کے حامل مناظر کی وجہ سے عابدین نے کہا کہ سواروں کو سفر میں کچھ خاص پیش رفت محسوس نہ ہوئی جس سے ان کی نفسیاتی طاقت متأثر ہوئی۔

تیسرے دن بدھ کو مکہ سے بدر تک 354 کلومیٹر کے ایک مشکل سفر کے بعد ٹیم صبح 10 بجے توقع سے زیادہ دیر سے اپنی سواری کے آخری مرحلے پر روانہ ہوئی جس کی وجہ کچھ تھکن تھی۔ اس مرحلے پر عابدین نے کہا کہ ہوا کی رفتار کم ہو گئی تھی لیکن اس کی جگہ بلندی اور 35 ڈگری سیلسیس تک گرمی نے لے لی۔ ان عناصر سے 140 کلومیٹر تک لڑنے کے بعد دونوں ٹیمیں مدینہ سے آٹھ کلومیٹر باہر دوبارہ منظم ہوئیں اور ایک ساتھ شہر میں داخل ہوئیں۔

سواری 12 گھنٹے بعد رات 10 بجے ختم ہوئی۔

'جتنی مشکل جنگ، اتنی ہی اطمینان بخش فتح'

عابدین نے مقدس سعودی شہر پہنچنے پر گروپ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا، "جیسے ہی ہم مدینہ پہنچے، تین دن کی نیند کی کمی اور مشکلات سب غائب ہو گئیں۔ اس میں عناصر کے خلاف 300 میل کا سفر کرنے کا اطمینان شامل تھا… یہ ایک جشن کی طرح تھا۔" عابدین نے کہا کہ اطمینان اور کامیابی کے احساس نے سفر کو کارآمد بنا دیا جبکہ تماشائی ٹیموں کے لیے خوشی سے نعرے لگا رہے تھے۔

گروپ کے جمع کردہ فنڈز لٹل ہارٹس پروگرام کو جائیں گے جس کا اہتمام لندن میں قائم منتڈا ایڈ چیریٹی نے کیا ہے۔ عابدین نے چار سال قبل تنظیم کے ساتھ ایک مختلف سواری کے لیے کام کرنا شروع کیا جس نے بنگلہ دیش میں بچوں کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنی کامیابی کے بعد ایچ اینڈ کے سائیکل کلب نے مستقل شراکت دار کے طور پر منتڈا ایڈ کے ساتھ معاہدہ کیا۔

لٹل ہارٹس امدادی ایجنسی کا فلیگ شپ پروجیکٹ ہے جو 2012 سے جاری ہے۔ اس کے 12 ممالک میں 44 سے زیادہ مشن ہیں اور اس نے تقریباً 3,000 آپریشن کیے ہیں۔ یہ شرقِ اوسط کے کچھ ممالک بشمول مصر، یمن، مراکش، سوڈان اور لیبیا میں کام کرتا ہے۔

10 سالوں میں اپنی سواریوں سے کلب نے مبینہ طور پر تقریباً 2.3 ملین ڈالر (1.61 ملین پاؤنڈ) جمع کیے ہیں۔ سعودی عرب میں ہجرہ سواریوں نے 500,000 امریکی ڈالر (391,850پاؤنڈ) سے زیادہ کا اضافہ کیا ہے۔ عابدین نے کہا، "جب ہم نے دس سال پہلے یہ کام شروع کیا تھا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہم یہ کارنامہ انجام دیں گے۔" خیراتی پروگراموں میں حصہ لینے کے علاوہ انہوں نے سکولوں، ہسپتالوں اور کنوؤں کی تعمیر میں بھی مدد کی ہے۔

سائیکل سواروں کے لیے سپورٹ

17 ممالک کے 51 شہروں میں سائیکل چلانے والے عابدین نے کہا، "سعودی عرب میں ہمیں مقامی [کمیونٹی] کی طرف سے سب سے زیادہ حمایت حاصل ہے۔"

انہوں نے چھوٹی چھوٹی مثالیں بیان کیں جہاں بچوں کے ہاتھ ملانے اور تصویریں لینے کے لیے راستے میں ٹیم کے ساتھ ساتھ بھاگنے سے لے کر پولیس کی طرف سے بڑی لاجسٹک مدد شامل تھی جنہوں نے بعض صورتوں میں سائیکل سواروں کو گشت کرنے والی کاروں کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے مصروف جنکشن اور سڑکوں سے گذرنے میں مدد کی۔

عابدین نے وضاحت کی کہ برطانیہ کے مقابلے میں مملکت میں سائیکلنگ کلچر کی نسبتاً غیر موجودگی کے باوجود ٹیم کو یہ تعاون حاصل ہوا۔ مبینہ طور پر ریاض میں برطانوی قونصل خانے نے تین روزہ سفر کے لیے درکار دستاویزات اور منظوریوں میں مدد کی۔

فی الحال سعودی عرب میں سائیکل سواروں کی مدد کے لیے بہت کم انفراسٹرکچر موجود ہے حالانکہ ملک میں شہر بنانے کے عمل کے منصوبوں میں اس پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ مملکت میں بالخصوص بڑے شہروں میں پٹریاں اور راستے کھل گئے ہیں۔ ایچ اینڈ کے سائیکل کلب کے زیرِ قیادت ہونے والے موجودہ اقدامات کے ساتھ سائیکلنگ کے لیے سہولیات اور سرگرمی کے بارے میں دلچسپی اور آگاہی کی توقع ہے کہ کئی گنا بڑھے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں