مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے کہاں ہیں اور فوج کر کیا رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک عراقی اور شامی اہداف اور تہران کی حمایت یافتہ ملیشیا پر فضائی حملے کیے جب شرقِ اوسط کے ان متعدد مقامات میں سے ایک پر حملہ ہوا جہاں امریکہ کی فوجی موجودگی ہے۔

شرقِ اوسط میں امریکی فوجی موجودگی کے بارے میں جو معلومات ہمارے پاس ہیں وہ یہ ہیں:

شرقِ اوسط میں امریکی فوجی مراکز کہاں ہیں؟

امریکہ شرقِ اوسط میں کئی عشروں سے اپنے فوجی مراکز چلا رہا ہے۔ اپنے عروج پر 2011 میں افغانستان میں 100,000 سے زیادہ امریکی فوجی تھے اور 2007 میں عراق میں 160,000 سے زیادہ اہلکار تھے۔

اگرچہ 2021 میں افغانستان سے انخلاء کے بعد یہ تعداد بہت کم ہے لیکن اب بھی تقریباً 30,000 امریکی فوجی پورے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مزید برآں اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکہ نے عارضی طور پر ہزاروں اضافی فوجی خطے میں بھیجے بشمول جو جنگی بحری جہازوں پر ہیں۔

شرقِ اوسط میں سب سے بڑا امریکی فوجی مرکز قطر میں واقع ہے جسے العدید ایئر بیس کے نام سے جانا جاتا ہے اور 1996 میں بنایا گیا تھا۔ دیگر ممالک جہاں امریکہ کی موجودگی ہے ان میں بحرین، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) شامل ہیں۔

شام میں امریکہ کے تقریباً 900 فوجی ہیں جو زیادہ تر ملک کے شمال مشرق میں العمر آئل فیلڈ اور الشدادی جیسے چھوٹے مراکز میں ہیں۔ عراق اور اردن کے ساتھ کاؤنٹی کی سرحد کے قریب ایک چھوٹی چوکی ہے جو التنف گیریژن کے نام سے معروف ہے۔

عراق میں 2,500 اہلکار موجود ہیں جو یونین تھری اور عین الاسد ایئر بیس جیسی سہولیات کے ارد گرد پھیلے ہوئے ہیں حالانکہ ان فوجیوں کے مستقبل کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔

خطے میں امریکی فوجیں کیوں تعینات ہیں؟

امریکی فوجی مختلف وجوہات کی بنا پر شرقِ اوسط میں تعینات ہیں اور شام کے علاوہ وہ ہر ملک کی حکومت کی اجازت سے وہاں موجود ہیں۔

عراق اور شام جیسے کچھ ممالک میں امریکی فوجی داعش کے خلاف لڑنے کے لیے موجود ہیں اور مقامی فورسز کو مشورہ دینے میں بھی مدد کر رہے ہیں۔ لیکن وہ گذشتہ کئی سالوں سے ایران کی حمایت یافتہ افواج کے حملوں کی زد میں آئے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اردن جو خطے میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے، کے پاس سینکڑوں امریکی ٹرینرز ہیں اور وہ سال بھر وسیع مشقیں کرتے ہیں۔

دیگر معاملات میں مثلاً قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اتحادیوں کو یقین دلانے، تربیت دینے اور خطے میں کارروائیوں میں ضرورت کے مطابق استعمال کی جاتی ہے۔

کیا امریکہ میں غیر ملکی فوجی مراکز ہیں؟

اگرچہ واشنگٹن کے اتحادی بعض اوقات اپنے فوجیوں کو امریکی فوجیوں کے ساتھ تربیت یا کام کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں لیکن امریکہ کے اندر کوئی غیر ملکی فوجی مراکز نہیں ہیں۔

اردن میں ٹاور 22

اردن میں سب سے زیادہ شمال مشرقی مقام پر ایک مرکز ٹاور 22 جہاں ملک کی سرحدیں شام اور عراق سے ملتی ہیں، 28 جنوری کو ڈرون حملہ ہوا جس میں آرمی ریزرو کے تین فوجی ہلاک ہو گئے۔ واشنگٹن نے ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ پر حملے کا الزام لگایا۔

خاص طور پر ٹاور 22 التنف گیریژن کے قریب ہے جو شام میں سرحد کے اس پار واقع ہے اور جہاں امریکی فوجیوں کی ایک چھوٹی سی تعداد موجود ہے۔ تنف داعش کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کرتا تھا اور اس نے مشرقی شام میں ایران کی فوجی تشکیل کو روکنے کے لیے امریکی حکمتِ عملی کے ایک حصے کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔

کیا خطے میں امریکی مراکز پر اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں؟

امریکی فوجی مراکز انتہائی حفاظتی مقامات ہیں جن میں میزائلوں یا ڈرونز سے حفاظت کے لیے فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہے۔ قطر، بحرین، سعودی عرب، کویت جیسے ممالک میں ان تنصیبات پر عموماً حملہ نہیں کیا جاتا۔

لیکن حالیہ برسوں میں عراق اور شام میں امریکی فوجیوں پر اکثر حملے ہوتے رہے ہیں۔ 7 اکتوبر کے بعد سے امریکی فوجیوں پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا نے 160 سے زیادہ بار حملے کیے جس میں تقریباً 80 فوجی زخمی ہوئے حتیٰ کہ یہ تعداد اتوار کے ٹاور 22 پر حملے سے پہلے کی ہے جس میں 40 کے قریب فوجی زخمی ہوئے تھے۔

شرقِ اوسط میں تشدد کی ایک نئی لہر 7 اکتوبر کے بعد شروع ہوئی جب حماس کے مزاحمت کاروں نے اسرائیل میں داخل ہو کر 1,200 اسرائیلیوں کو ہلاک اور 253 کو یرغمال بنا لیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے ایک فوجی مہم شروع کی جس میں غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق 27,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور غزہ کی گنجان آباد پٹی میں ایک شدید انسانی بحران کا باعث بنی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں