عراق اور شام میں حملے کر کے امریکہ نے جلتی آگ پر تیل ڈالا ہے: حماس کا مذمتی بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے شام اور عراق میں ہونے والے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ بڑھانے کی کوشش اور جلتی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف قررا دیا ہے۔

حماس کی طرف سے جاری کیے گئے مذمتی بیان میں کہا گیا ہے ان جارحانہ حملوں کے مضمرات کے لیے ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا جائے گا۔ جنہوں نے جلتی پر تیل ڈالا ہے انہیں یقین رکھنا چاہیے کہ ان کی اس جارحانہ حرکت سے خطے کو استحکام اور امن نہیں مل سکے گا جب تکہ کہ صیہونی جارحیت، اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی مجرمانہ نسل کشی اور فلسطینیوں کی نسلی تطھیر جیسے جرائم کو جنگ بندی کر کے روکا نہیں جاتا۔

واضح رہے امریکہ نے عراق اور شام میں ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروپوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ وہ ان حملوں کو اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملوں کا جواب قرار دیتا ہے۔ کیونکہ اردن میں اس کے تین فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

امریکہ نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شام اور عراق میں مجموعی طور پر 85 اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کم از کم 23 عسکریت پسند شام میں ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 16 جنگجو عراق میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ایرانی حمایت یافتہ ان عسکریت پسندوں نے اکتوبر2023 کے وسط سے لے کر اب تک علاقے میں امریکی اہداف پر 165 حملے کیے ہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کا یہ کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگ میں ہلاکتوں کے خلاف اسرائیل اور اس کی سرپرست اتحادی قوتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ خیال رہے اب تک غزہ میں 27238 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔

'یونیسیف' کا کہنا ہے اب تک کی جنگ میں 17000 فلسطینی بچے اپنے ماں باپ سے بچھڑ چکے ہیں اور جو بےگھر ہو کر ان دنوں سخت سردی میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں سخت صدمے سے دوچار ہیں۔ جن کی ذہنی حالت کو بہتر کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ 'یونیوسیف' کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں