عراق میں امریکی حملوں میں شہریوں سمیت کم از کم 16 ہلاک: حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی حکومت کے ترجمان باسم العوادی نے ہفتے کے روز کہا کہ عراق کے مغرب میں ایران نواز مسلح گروپوں کے خلاف امریکی حملوں میں عام شہریوں سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے۔

العوادی نے ایک بیان میں کہا، حملوں میں "عکاشات اور القائم کے علاقوں میں مقامات کو نشانہ بنایا گیا بشمول وہ علاقے جہاں ہماری سکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔"

امریکہ نے یہ حملے جمعہ کو شام اور عراق کے ساتھ اردن کی سرحد کے قریب ایک امرکی فوجی مرکز پر کیے ہیں جو ایک ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا بدلہ تھا۔

واشنگٹن نے عراق میں اسلامی مزاحمتی تنظیم (آئی آر آئی) پر غیر اعلانیہ حملے کا الزام لگایا جو غزہ میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کی مخالفت کرنے والے ایران نواز مزاحمت کاروں کا ایک غیر پابند اتحاد ہے۔

تہران نے اس حملے سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔

جمعہ کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے "حملوں سے پہلے عراقی حکومت کو خبردار کیا تھا۔"

لیکن بغداد نے اس بات کی تردید کی کہ بم دھماکوں سے قبل واشنگٹن کے ساتھ کوئی رابطہ تھا۔

العوادی نے ریاست ہائے متحدہ پر "غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کرنے" کا الزام لگایا اور اس بات کو "بین الاقوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور قانونی ذمہ داری سے بچنے کے لئے تراشا گیا ایک بے بنیاد دعوی" قرار دیا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ یہ جارحانہ فضائی حملہ عراق اور خطے میں سکیورٹی کی صورتِ حال کو خطرے میں ڈال دے گا۔

العوادی نے عراق کی سرزمین کو "ماضی کے واقعات کا بدلہ چکانے کے لیے میدانِ جنگ" کے طور پر استعمال کرنے کی مذمت کی اور اپنی حکومت کی جانب سے عراق میں امریکہ کے زیرِ قیادت بین الاقوامی شدت پسند-مخالف اتحاد کے انخلاء کے مطالبے کو دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد نے "اپنے تفویض کردہ کاموں سے انحراف کیا اور حکومتی اختیار دیا" اور یہ "عراق میں سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہا تھا۔"

عراق میں تقریباً 2500 اور شام میں 900 کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں جو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے 2014 میں بنائے گئے اتحاد کا حصہ ہیں - جس سال شدت پسند گروپ نے عراق کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

اکتوبر کے وسط سے عراق اور شام میں اتحادی افواج کے خلاف 165 سے زیادہ ڈرون اور راکٹ حملے ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری عراق میں اسلامی مزاحمتی تنظیم نے قبول کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں