شرق اوسط

عزیز و اقارب کی خبروں کے لیے بے تاب فلسطینیوں کو موبائل نیٹ ورک کے مسائل کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

موبائل سگنلز کمزور ہونے کی وجہ سے غزہ کے باسی حمزہ تابش ہر روز اپنے خیمے سے مصری سرحد کی طرف چلے آتے ہیں تاکہ وہ جنگ کی وجہ سے جدا ہونے والے عزیزوں کو صوتی پیغامات بھیج سکیں اور ایک جوابی پیغام موصول ہو جانے کی امید بھی ہو۔

وہ کہتے ہیں، "ایک پیغام سے گویا نئی زندگی ملتی ہے۔"

بمباری سے متاثرہ غزہ کے 23 لاکھ افراد میں سے زیادہ تر اسرائیل کی شدید بمباری اور زمینی حملے کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں ان کی دلچسپی کی واحد خبر ان کے عزیزوں کے بارے میں ہوتی ہے اور اس کا انحصار کمزور فون نیٹ ورک پر ہے۔

مقامی ٹیلی کام نیٹ ورک تقریباً مکمل طور پر بالخصوص فلسطینی انکلیو کے شمال اور مرکز میں ختم ہونے کی وجہ سے کئی لوگ سرحد کے ساتھ کھڑے ہو کر مصری نیٹ ورک سے منسلک ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

تابش نے اپنی ماں کو میسج بھیجتے ہوئے کہا "امی، آپ کیسی ہیں؟ امید ہے کہ خیریت سے ہوں گی۔ یہاں چیزیں ٹھیک ہیں۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا تھا۔ پریشان نہ ہوں۔"

یہ خاندان خان یونس سے ہے لیکن وہ اس وقت الگ ہو گیا جب اسرائیل نے اپنی جارحیت شہر پر مرکوز کرنا شروع کر دی۔ تب تابش رفح کی طرف چلا آیا اور اس کی والدہ خاندان کے گھر پر ہی رک گئیں۔

خان یونس میں حالیہ دنوں کے دوران لڑائی اور تباہی شدید رہی ہے اور جو لوگ اب بھی وہاں موجود ہیں وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتے ہیں۔

مصر کے ساتھ پہلی خاردار تاروں والی سرحدی باڑ کے ساتھ ایک اونچے مقام پر جہاں تابش کھڑا تھا، دوسرے لوگ ایک غول میں ریت پر بیٹھے پیغامات ریکارڈ، بات کرتے ہوئے گھوم رہے تھے یا اپنے فون کو ہوا میں اٹھائے سگنل موصول کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مقامی ٹیلی کام پال ٹیل [فلسطینی ٹیلی کام] کے زیرِ انتظام چلنے والے غزہ کے فون نیٹ ورک نے 7 اکتوبر سے سروس کی فراہمی میں کل 10 سے زیادہ مرتبہ کمی کی اطلاع دی ہے۔

مضطرب چہرے کے ساتھ سرحدی باڑ کے برابر بیٹھی مریم عودہ نے کہا وہ بھی اپنے خاندان کے افراد سے الگ ہو چکی ہیں جو خان یونس میں رہ گیا۔

انہوں نے کہا، "ہم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہتے ہیں، انہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ابھی زندہ ہیں۔ ہر روز ہم رشتہ داروں کو فون کرنے مصری سرحد پر آتے ہیں کیونکہ جب وہ فون کرتے ہیں تو رفح میں بھی کوئی سروس نہیں ہوتی۔ جب وہ ہمیں کال کرتے ہیں تو وہ رابطہ نہیں کر پاتے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں