شرق اوسط

غزہ: اسرائیلی فوج کے خالی کردہ علاقوں میں حماس کی حامی پولیس کی تعیناتی شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حماس کے زیر کنٹرول غزہ کے علاقوں میں غزہ کی فلسطینی پولیس کی تعیناتی از سر نو شروع ہو گئی ہے۔ حماس کی وفادار پولیس کی تعنیاتی ابتدائی طور پر پچھلے چند دنوں سے ان علاقوں میں دیکھنے میں آئی ہے جن علاقوں کو اسرائیلی فوج نے پچھلے ماہ خالی کردیا تھا۔

ایک اور پیش رفت جو پچھلے چند دنوں میں غزہ میں سامنے آئی ہے وہ حماس حکومت کے مختلف محکموں کے کارکنوں کو پھر سے تنخواہوں کی ادائیگی کا شروع ہونا بھی ہے۔ ان تنخواہوں کی ادائیگی کی تصدیق حماس کے ایک سینئیر رہنما کے علاوہ غزہ کے کئی عام رہائشیوں نے بھی کی ہے۔

یہ پیش رفت اس کے باوجود سامنے آئی ہے کہ اسرائیل نے جاری جنگ کے دوران ہمیشہ یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ حماس کو کچل دیا جائے گا تاکہ دوبارہ سے غزہ میں اس کی 2007 سے منتخب حکومت کے اثرات بحال نہ ہو سکیں۔ تاہم اس سلسلے میں اسرائیلی خفیہ ادارے شین بیت کے سابق سربراہ کا یہ بیان آنا بھی اہم ہے کہ غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے۔

واضح رہے پچھلے سال سات اکتوبر سے جاری جنگ نہ صرف یہ کہ اسرائیل کی اب تک کی طویل ترین جنگ ہے بلکہ غزہ کے فلسطینیوں کی ہلاکتوں بشمول عورتوں بچوں کے سب سے زیادہ جانی نقصان والی جنگ ہے۔ کہ اس دوران اب تک 27238 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بھی 23 لاکھ کے قریب ہو چکی ہے۔ یونیسیف کے مطابق 17000فلسطینی بچے اپنے والدین سے محروم ہوئے ہیں۔

یہ سب ہلاکتیں اور غزہ کی تقریباً مکمل تباہی اسرائیلی فوج نےاپنے تین اہداف کے حصول کے لیے کی ہے کہ حماس کا مکمل خاتمہ ہو سکے، اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرایا جا سکے اور غزہ سے مستقبل میں اسرائیل کو کبھی خطرہ باقی نہ رہے۔

مگر یرغمالیوں کو طاقت کے ذریعے ابھی تک نہ چھڑا سکنے کے بعد اب حماس کی غزہ پولیس کی تعیناتی بحال ہونے لگنا غیر معمولی بات ہے۔ اسرائیل کے اعلان کردہ اہداف کے تناظر میں بہت اہم ہے۔

دوسری جانب یہ بھی سلسلہ موجود ہے کہ مغربی اور شمال مغربی غزہ کے ان علاقوں میں اسرائیلی فوج نے بمباری کی حالیہ دنوں میں پھر سے بمباری تیز کر دی ہے۔ جن علاقوں میں حماس کی حکومت نے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

غزہ میں 'اے پی' کے نمائندے کو حالیہ دنوں میں چار مقامی شہریوں نے بھی یہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے پولیس افسران یونیفارم کے ساتھ بھی اور سفید کپڑوں میں بھی مختلف مقامات پر تعینات کیا جانا شروع کر دیا گیا ہے۔ ان شہریوں کے مطابق حماس کی غزہ پولیس کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک، حماس حکومت کے دفاتر کے نزدیک اور الشفاء ہسپتال وغیرہ کے پاس پولیس کی تعیناتی کی گئی ہے۔

'اے پی' کے مطابق ان مقامی شہریوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حماس حکومت کی مختلف محکموں کے کارکنوں کو تنخواہیں بھی ادا کی گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق حماس حکومت کی پولیس کے ڈیوٹی پر واپس آنے کو ایک حماس کی واپسی کے کوشش کے طور پر دیکھا ہے۔ حماس کے ایک سینئیر رہنما ایک خبر رساں ادارے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ' بلاشبہ یہ ایک اہم واقعہ ہے۔ کہ اسرائیل نے جن شمالی غزہ کے علاقوں سے اپنی فوج کو واپس بلایا تھا ان میں پولیس کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے۔'

سینئیر رہنما جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط عاید کی ہے یہ بھی کہا ' گروپ کے سینئیر رہنماؤں نے ہدایات دی ہیں کہ شمالی غزہ میں مختلف حصوں میں محکموں کی سرگرمیوں اور خدمات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ نیز قانون کی عمل داری قائم کرتے ہوئے دکانداروں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

سعید البدر نامی ایک شہری نے بتایا اس کے ایک کزن نے حماس حکومت کے ایک عارضی متبادل بنائے گئے دفتر سے 200 ڈالر کی رقم وصول کی ہے کہ حماس حکومت نے اپنے ملامین کو ادائیگیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ ادائیگیاں پولیس افسران اور اہلکاروں کے علاوہ بلدیاتی محکمے کے کارکنوں کو بھی کو بھی کی جانا شروع ہو گئی ہیں۔ واضح رہے حماس حکومت کے ملازمین کو 200 ڈالر کی ادائیگی ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلی فوج حماس کو غزہ سے نکال باہرنے میں ناکام رہی ہے۔

2007 سے حماس حکومت کے غزہ میں ہزاروں ملازمین کام کر رہے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے حماس کے 9000 جنگجووں کو اس چار کی جنگ میں ہلاک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں