مسلح دھڑوں کا عراق میں حریر بیس پرحملے کا دعویٰ، اربیل کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی طیاروں کے مغربی عراق اور مشرقی شام میں حملوں کے بعد خطے میں غیرمعمولی کشیدگی کے ماحول میں عراقی عسکریت پسند گرپوں نے شمالی عراق میں حریر بیس پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

آج ہفتے کے روز عراقی عسکری گروپوں نے شمالی عراق کے علاقے کردستان میں حریر ایئر بیس کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اس اڈے پر امریکی فوجی تعینات ہیں۔

عراقی گروپوں کا حملے جاری رکھنے کا اعلان

"عراق میں اسلامی مزاحمت" کے نام سے سرگرم گروپ نے ایک بیان میں زور دیا کہ اس نے یہ حملہ "امریکی افواج کے خلاف مزاحمت کے اپنے نقطہ نظر کے تسلسل اور غزہ میں فلسطینیوں کے اسرائیل کےہاتھوں قتل عام کے جواب میں کیا ہے"۔

بیان میں زور دیاکہ وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات پر حملے جاری رکھے گی۔

دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو تصدیق کی ہے کہ عراق میں کردستان کے علاقے کی فضائی حدود میں کوئی ڈرون داخل نہیں ہوا۔

اربیل کے ایک سرکاری ذریعے نے بھی حریر اڈے کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

امریکی فورسز نے جمعے کو عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے زیر استعمال درجنوں ٹھکانوں پر طیاروں اور ڈرونز سے حملے کیے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملے اردن میں ایک امریکی فوجی تنصیب ’ٹاور-22‘ پر ایران کے حمایت یافتہ ایک عسکری گروپ کے ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے جس میں تین امریکی فوجی ہلاک اور 40 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ فورسز (سینٹکام) نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ فورسز نے عراق اور شام کے اندر پاسداران انقلاب قدس فورس اور اس کے اتحادی ملیشیا گروپوں کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی فورسز نے پچاسی سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے لیے کئی ایرکرافٹ استعمال ہوئے جن میں دور تک مار کرنے والے جنگی طیاروں نے امریکہ سے بھی اڑان بھری۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں