2024 میں متحدہ عرب امارات میں تنخواہوں میں 4.5 فیصد اضافہ متوقع: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

خلیج کی ایک سرکردہ بھرتی ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں متحدہ عرب امارات میں اوسط تنخواہوں میں 4.5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

کوپر فچ کی 'تنخواہ گائیڈ 2024' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ غیر تیل کے شعبوں کی مضبوط کارکردگی اور ملک کے تیل کے پیداواری کوٹے میں اضافے کی بدولت ہے۔

کوپر فچ کے بانی اور سی ای او ٹریفور مرفی نے کہا، "متحدہ عرب امارات میں مقیم تنظیموں کے ایک بڑے تناسب نے 2022 کے مقابلے میں 2023 میں اپنے ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیا اور اس سال کے نصف سے زیادہ جواب دہندگان نے 2024 میں معاوضے میں اضافہ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ امارات میں ملازمت کے متلاشیوں کے لیے مثبت خبر ہے کیونکہ عام طور پر ہنر کی زیادہ طلب کا نتیجہ زیادہ تنخواہوں کی صورت میں نکلتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں ترپن فیصد فرمز سے اگلے سال ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ – 39 فیصد – کمپنیاں تنخواہوں میں 5 فیصد تک اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جبکہ تقریباً 10 میں سے ایک نے تنخواہوں میں 6 سے 9 فیصد تک اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، اور 20 میں سے ایک کمپنی تنخواہ میں 10 فیصد یا اس سے زیادہ اضافے کی تیاری کر رہی ہے۔

البتہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سروے میں شامل 21 فیصد فرمز سےملازمین کی تنخواہوں میں کمی کی توقع ہے جو ٹیلنٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر ایک حیران کن رجحان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو توقع ہے کہ متحدہ عرب امارات کی غیر تیل جی ڈی پی 2024 میں 4 فیصد سے زیادہ بڑھے گی۔

غیر تیل کے شعبوں میں رئیل اسٹیٹ، سفر و سیاحت اور ہوا بازی متحدہ عرب امارات کی اقتصادی ترقی کی قیادت جاری رکھیں گے۔

بونس

کوپر فچ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سروے میں شامل نصف سے زیادہ فرمز (71 فیصد) نے 2023 میں اپنی تنظیم کی مالی کارکردگی کی بنیاد پر سالانہ بونس جاری کرنے کے ارادے کی اطلاع دی جبکہ 29 فیصد نے کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

کوپر فچ میں مینیجنگ پارٹنر اور پبلک سیکٹر ایڈوائزری کے سی ای او جیک خباز نے کہا، "جبکہ تنخواہیں ہنر کو برقرار رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہتی ہیں، مقررہ معاوضے سے آگے کے عوامل - مثلاً سالانہ بونس اور دور سے کام کرنے کی صلاحیت - متحدہ عرب امارات کی ملازمت کی منڈی میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔"

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2022 میں جواب دہندگان کے قدرے زیادہ تناسب (74 فیصد) نے اپنے ملازمین کو سالانہ بونس ادا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اس سال کے پینتیس فیصد جواب دہندگان نے بونس جاری کرنے کا ارادہ کیا اور کہا کہ وہ ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ ادا کرنے کی توقع رکھتے ہیں؛ رپورٹ کے مطابق 17 فیصد نے کہا کہ وہ دو ماہ کی تنخواہ دیں گے، 12 فیصد نے کہا تین ماہ، 4 فیصد نے کہا چار ماہ، اور 1 فیصد نے کہا کہ وہ پانچ ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور بونس ادا کریں گے۔

اس سال کے جواب دہندگان کے 2 فیصد کے لیے کام کرنے والے ملازمین - اکاؤنٹنگ، کیمیکلز، صارف مصنوعات اور ہسپتال اور صحت کی نگہداشت کے شعبے - بونس کی توقع کر سکتے ہیں جو چھ ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر ہوں گے۔

ایجنسی کے مطابق 29 فیصد کمپنیوں میں سے جو بونس ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، سب سے زیادہ تناسب مالیاتی خدمات کے شعبے کا ہے جو اقتصادی ترقی میں کمی کے پیشِ نظر غیر حیران کن ہے جس کا سامنا بین الاقوامی بینکوں کو 2023 میں کرنا پڑا۔

جو اس سال بونس ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، ان تنظیموں کا دوسرا بڑا تناسب مشاورت کی صنعت سے ہے جس کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے۔

ایسی مسابقتی جاب مارکیٹوں میں وہ فرمز جو بونس یا زیادہ تنخواہوں کی پیشکش نہیں کرتیں، وہ اعلیٰ صلاحیتوں کو راغب کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے اکثر اپنے ملازمین کو غیر مالی فوائد فراہم کرتی ہیں مثلاً دور دراز سے کام کرنا، تربیت اور ترقی یا اضافی سالانہ چھٹی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں