ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا نے امریکہ و اتحادی فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نواز عراقی عسکری گروپ حشد الشعبی نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کے زیر قیادت اتحادی فورسز عراق سے نکل جائیں۔ حشد الشعبی اتحاد کے سربراہ کی طرف سے یہ مطالبہ امریکہ کے عراق اور شام میں کیے گئے حملوں کے بعد اتوار کے روز سامنے آٰیا ہے۔

حشد الشعبی کے سربراہ فلاح الفیاض نے امریکی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اپنے جنگجوؤں کی تجہیز و تکفین کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتظامیہ کے دفاتر اور ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ نہ صرف یہ بلکہ ہماری سرحدوں پر افواج پر بھی حملے کیے۔ حملہ آوروں کو خبردار کرتے ہوئے حشد الشعبی کے سربراہ کا کہنا تھا ہمارے گروپ کو نشانہ بنانے کا مطلب آگ سے کھیلنا ہوگا۔

واضح رہے جمعہ کو عراق کے مغربی علاقوں میں امریکی جہازوں نے ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ٹھکانوں پر بم گرائے اور کہا گیا کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے ٹاور 22 پر حملوں میں مارے گئے تین امریکی فوجیوں کا انتقام ہے۔

حشد الشعبی ایرانی حمایت یافتہ نیم فوجی دستوں کی حیثیت رکھتے ہیں جو عراق کے باقاعدہ فوجی دستوں میں ضم ہو چکے ہیں۔ جمعہ کے روز امریکی حملوں میں اس کے 16 اہلکار مارے گئے جبکہ 36 زخمی ہوئے تھے۔

فلاح الفیاض نے عراقی وزیر اعظم محمد السوڈانی سے زور دے کر مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار اور قوت کو استعمال کرتے ہوئے عراق سے امریکہ کے زیر قیادت اتحادی فوجوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کریں۔

امریکی اتحاد 2014 سے قائم ہے جسے داعش کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا گیا تھا۔ تاکہ عراق اور شام میں موجود داعش کے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں عراق میں 2500 امریکی فوجی تعینات ہیں جبکہ شام میں 900 فوجی تعینات ہیں۔

وزیر اعظم محمد السوڈانی نے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بارے میں بار بار مطالبات سامنے آنے کے بعد پچھلے ماہ واشنگٹن کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت شروع کر دی تھی کہ اتحادی فوجیوں کا عراق میں مستقبل کیا ہوگا۔ وزیراعظم عراق کے دفتر نے اپنے جاری کردہ بیان میں یہی بتایا تھا کہ حکومت نے ایک کمیٹی بنا دی ہے جو امریکی و اتحادی فوجیوں کے انخلاء کے معاملات کا جائزہ لے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں