برطانوی فوج کو بڑی جنگوں میں ملوث ہونے کے خلاف وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کی رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری برطانوی رپورٹ نے ملکی فوج کو بڑی جنگوں میں ملوث ہونے سے خبردار کیا ہے۔

اخبارکے مطابق سلیکٹ ڈیفنس کمیٹی کی رپورٹ "رازداری کے پردے" کے تحت فورسز اور آلات کی شدید کمی کی تصدیق کرتی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق برطانوی فوج کو "قابلیت میں نمایاں کمی" کے نتیجے میں برطانیہ میں "کمزور" سمجھا جاتا ہے، جس میں گاڑیوں، ٹینکوں اور یہاں تک کہ گولہ بارود کی کمی بھی شامل ہے۔

ایک غیر معمولی اقدام میں فوجی نمائندوں اور وزراء نے ان کوتاہیوں کے بارے میں شفافیت بڑھانے پر زور دیا تاکہ ان کے ازالے کو تیز کیا جا سکے۔

رپورٹ میں جنگی تیاریوں کے مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس میں قومی دفاع پر بھاری رقوم خرچ کیے جانے کے باوجود ایک "زیادہ شدت والی جنگ" سے لڑنے کے لیے ضروری سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب آرمی چیف نے کہا تھا کہ برطانوی افواج کو جنگ کی صورت میں عوام کو جنگ میں بلانے کی ضرورت پڑسکتی ہے کیونکہ باقاعدہ افواج کی تعداد کم ہے۔

رپورٹ کے اختتام پرکمیٹی نے کہا کہ فوج کو بڑے بحرانوں اور جنگوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مسلسل دباؤ اور ملازمتوں میں اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں صلاحیتوں اور تربیت کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور برطانیہ نے گذشتہ ہفتے کے اوائل میں امریکی افواج پر حملے کے بعد ایران کی وفادار مسلح ملیشیاؤں کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوسرے دن کل ہفتے کو یمن میں 36 اہداف پر حملے کیے ہیں۔

برطانوی رائل ایئر فورس نے اعلان کیا کہ اس نے یمن میں حوثی فوجی اہداف پر متناسب اور ہدفی حملوں کی تیسری لہر میں حصہ لیا اور کہا کہ یہ حملے کوئی اضافہ نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں