عالمی دفاعی شو 2024: سعودی تجارتی نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شرقِ اوسط میں ایک سرکردہ سکیورٹی و دفاعی تجارتی نمائش اتوار کو شروع ہوئی جس کے لیے سینکڑوں دفاعی فرمز ریاض میں موجود ہیں۔

عالمی دفاعی شو 2022 میں آغاز کے بعد دوسری بار سعودی دارالحکومت میں منعقد ہو رہا ہے جس میں دفاعی شعبے کی جدید ترین اختراعات پیش کی گئی ہیں۔

اس سال کا تھیم ہے: "کل کے لیے تیار"۔ 25 فیصد اضافے کے باوجود نمائشی جگہ مبینہ طور پر ایونٹ کے آغاز سے پانچ ماہ قبل فروخت ہو گئی۔

دفاعی شو پانچ دن تک جاری رہے گا اور اس میں 65 سے زیادہ ممالک کے 750 سے زیادہ نمائش کنندگان شامل ہوں گے جن میں سے 23 سے زیادہ مملکت میں پہلی بار نمائش کر رہے ہیں۔ اس میں 2022 کی نسبت اضافہ ہوا ہے جب تقریباً 600 نمائش کنندگان نے شرکت کی تھی اور اس کے نتیجے میں کل تقریباً 8 بلین ڈالر کے آرڈرز اور معاہدات ہوئے۔

مملکت نے 2024 میں فوجی اخراجات کے لیے 269 بلین ریال ($ 71.72 بلین) مختص کیے ہیں جو 2023 کے بجٹ کے 259 بلین ریال سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب کی فوجی صنعتیں، ایس ٹی سی اور سعودیہ سمیت مقامی شراکت دار اس تقریب کے چند اہم سپانسرز ہیں۔

یہ تقریب سعودی حکومت کے لیے ایک پلیٹ فارم کا درجہ رکھتی ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی فرمز کو عالمی سطح پر سب سے بڑی نموپذیر معیشتوں میں سے ایک میں اپنے اختیارات تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔

مقامی طور پر ترقی کرنے، لاکھوں نوجوان سعودیوں کو ملازمت دینے اور اعلیٰ بجٹ کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریاست کے زیرِ قیادت کوششوں کے ساتھ یہ شعبہ کئی فرمز کے لیے منافع بخش ہے کہ وہ مملکت میں اپنی مقامی موجودگی قائم کریں۔ اس کا مقصد 2030 تک ملک کے کل فوجی اخراجات کے 50 فیصد سے زیادہ کو مقامی بنانے کی شرح حاصل کرنا ہے۔

ترکی، چین، روس اور امریکہ کی اس شو میں نمایاں موجودگی کی توقع ہے جو شہر کے مرکز سے تقریباً 70 کلومیٹر (43.4 میل) کے فاصلے پر ایک فعال ہوائی پٹی کے ساتھ ایک مقصد آفریں انڈور آؤٹ ڈور مقام پر منعقد ہو رہا ہے۔

چین کی بائے ایروبیٹک ٹیم اور سعودی ایروبیٹک ٹیم فضائی نمائشوں میں شامل ہوں گی جس میں بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کے مظاہرے اور براہِ راست لینڈ ڈسپلے بھی ہوں گے۔

تمام شعبوں میں بھرپور دلچسپی کے حامل دو شعبے ہیں: مصنوعی ذہانت اور بجلی سے چلنے والی گاڑیاں۔ ان کے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں بھی شامل ہونے کی امید ہے جس میں ان انتہائی متوقع ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی ہے۔

علاقائی دلچسپی کے ایک اور شعبے خلا کو جدید ترین ٹیک نمائش کے لیے ایک سرگرم میدان حاصل ہے اور ساتھ ہی سعودی کو اپنے عزائم کو نمایاں کرنے اور ستاروں تک کے سفر میں شراکت داروں کی تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں اس تقریب میں بدھ کو دفاع میں خواتین کو اجاگر کیا جائے گا جس کی قیادت امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر کریں گی۔ ایک ’فیوچر ٹیلنٹ پروگرام‘، ’میٹ دی کے ایس اے گورنمنٹ پروگرام،‘ ’ڈیفنس اسپیس ایرینا،‘ ’فیوچر آف ڈیفنس ہب‘ اور اس کے علاوہ بہت کچھ ہوگا۔

4 سے 8 فروری تک شو کی کوریج کے لیے العربیہ کو فالو کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں